اعوذ بالله من الشیطن الرجیم
بسم الله المذل القھار لکل عدو و شیطان
إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا[1] لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا[2] وَيَنْصُرَكَ اللَّهُ نَصْرًا عَزِيزًا[3]
بے شک ہم نے تجھے فتح دی، ایک کھلی فتح۔ [1] تاکہ اللہ تیرے لیے بخش دے تیرا کوئی گناہ جو پہلے ہوا اور جو پیچھے ہوا اور اپنی نعمت تجھ پر پوری کرے اور تجھے سیدھے راستے پر چلائے۔ [2] اور (تاکہ) اللہ تیری مدد کرے، زبردست مدد۔ [3
مسند احمد میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، تین مرتبہ میں نے آپ سے کچھ پوچھا آپ نے کوئی جواب نہ دیا، اب تو مجھے سخت ندامت ہوئی اس امر پر کہ افسوس میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دی آپ جواب دینا نہیں چاہتے اور میں خوامخواہ سر ہوتا رہا۔ پھر مجھے ڈر لگنے لگا کہ میری اس بے ادبی پر میرے بارے میں کوئی وحی آسمان سے نہ نازل ہو۔ چنانچہ میں نے اپنی سواری کو تیز کیا اور آگے نکل گیا، تھوڑی دیر گزری تھی کہ میں نے سنا کوئی منادی میرے نام کی ندا کر رہا ہے، میں نے جواب دیا تو اس نے کہا چلو تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یاد فرماتے ہیں، اب تو میرے ہوش گم ہو گئے کہ ضرور کوئی وحی نازل ہوئی اور میں ہلاک ہوا، جلدی جلدی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گذشتہ شب مجھ پر ایک سورت اتری ہے جو مجھے دنیا اور دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے“ پھر آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم «اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا» [48-الفتح:1] تلاوت کی۔ [صحیح بخاری:4177] یہ حدیث بخاری ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔
اکثر لوگ کاروبار یا زندگی کے دوسرے معاملات میں تنگی کا اظہار کرتے ہیں۔ کچھ تنگیاں اور بندشیں تو دنیاوی معاملات ہوتے ہیں لیکن کچھ بندشیں نظر بد اور جادو جنات کی وجہ سے بھی ہوتی ہیں۔ اکثر لوگ جادو جنات کو مانتے نہیں اور بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں کہ میرے اوپر تو کبھی جادو ہوا نہیں حالنکہ اسپر علمیت و فخریت جھاڑنے کی بجائے الله کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ چاروں طرف سے بند گروپس میں چیلینجز کرنے اور اپنا آپ اوپن رکھنے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ کاغذ پر خواہشات لکھوانے اور کمروں میں لٹکانے سے جادو جنات آپکے پیچھے نہیں آتا۔ جادو جنات و جادوگر کو پیچھے لگوانے کے لیے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں جو یار لوگ گواہ ہیں کہ میں نے پچھلے سالوں میں پوری شدت سے بیلے ہیں۔
بہرحال یہ بات میرے نزدیک ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اسوقت تقریباً ہر گلی محلے میں جادو ہو رہا ہے۔ کوچے کوچے پر کوئی نہ کوئی گھٹیا اعمال کرنے اور کروانے والا بیٹھا ہوا ہے۔ اور یہ سب حسد کی وجہ سے ہے۔ حسد کی تعریف یہ ہے، کسی کی دینی یا دنیاوی نعمت کے زوال (یعنی اس کے چھن جانے) کی تمنا کرنا یا یہ خواہش کرنا کہ فلاں شخص کو یہ نعمت نہ ملے۔ اب جو بندہ بھی اس مضمون کو پڑھے وہ اپنے ایمان سے بتائے کہ کیا وہ روزمرہ کی بنیاد پر ایسے لوگوں (حاسدین)کا اپنے اردگرد مشاہدہ نہیں کرتا؟
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم نے ارشاد فرمایا: ’’حسد سے دور رہو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ خشک لکڑی کو۔” حسد اور حسد کرنے والا کتنا خطرناک ہے کہ اس سے پناہ کی آیت نازل ہوئی
وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدٍ} (الفلق:۵)
’’(میں اللہ سے پناہ مانگتا ہوں) حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرنے لگے”
اب ایسا بندہ اپنے حسد میں آپکے خلاف کسی بھی حد تک جاتے ہوئے نہ صرف سازشیں کرے گا بلکہ جادو کی مدد بھی لے گا۔ اوپنلی جادو اور جادوگروں کے اشتہارات ٹی وی اور اخبارات میں آتے ہیں۔ بند گروپس میں بیٹھ کر سو کالڈ روحانی سائنسز سکھانے والوں کے چیلنجیز سے تو یہ جادوگر ویسے بہتر ہیں جو اوپنلی چیلنج تو کرتے ہیں۔
اسی طرح دنیا میں نظر بد کا کردار ہے۔ حاسد اگر کچھ نہ بھی کر سکے تو کم از کم آپکو بری نظر سے ضرور دیکھے گا اور نظر بد میں کتنی طاقت ہے، اُسکے لیے ملاحضہ فرمائیے یہ احادیث۔
عبید بن رفاعہ زرقی ؓ سے روایت ہے کہ اسماء بنت عمیس ؓ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جعفر طیار ؓ کے لڑکوں کو بہت جلد نظر بد لگ جاتی ہے ، کیا میں ان کے لیے جھاڑ پھونک کراؤں ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، اس لیے کہ اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت کر سکتی تو اس پر نظر بد ضرور سبقت کرتی سنن ترمزی
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللّٰہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کے لوگوں کی زیادہ تر اموات کا سبب تقدیر الہی کے بعد نظر لگنا ہو گا۔
سو ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں ایک ایسا عمل چاہیے جو جادو جنات کی وجہ سے لگنے والی بندشوں کو کنٹرول کرے، آجکل کے حروف صوامت کے شوقین حضرات کی بندشوں کو کنٹرول کرے، اور دنیاوی معاملات کی وجہ سے لگی ہوئی بندشوں، خرابیوں والے حالات کو بھی درست کرنے میں کردار ادا کرے۔ آجکا عمل ایک ایسا ہی عمل ہے اسمائے الہی قھار و فتاح اور کلام مجید سورہ فتح سے وابستہ ہے۔ اس عمل کو کرنے سے آپکی زندگی میں فتوحات آنی چاہییں اور بندشوں کا کنفرم خاتمہ ہو گا۔ یہ عمل سب کاروباری حضرات، نوکری پیشہ حضرات اور وہ تمام حضرات جو رزق کمانے کے سلسلے میں پریشان ہیں انکو کرنا چاہیے۔ خواتین اپنے شوہروں کے لیے کر سکتی ہیں۔ آپ رزق کے علاوہ بھی کسی معاملے میں پریشان ہوں اور کوئی ایسا کام جو نہ ہو رہا ہو، اُسکے لیے بھی یہ عمل فائدہ مند ثابت ہو گا بفضل قھار۔ آپکے رزق کے معاملات اور دیگر جس بھی وجہ سے رُکے ہوئے ہونگے، چاہے جادو جنات ہو، نظر بد ہو، حسد ہو یا سیاروں کی نحوست ہی ہو، یہ سب معاملات بفضل الله القھار الفتاح جاری ہونگے۔
آج رات چھ دسمبر یا کل رات سات دسمبر کو یہ عمل شروع کیجیے۔ شرف قمر بھی چل رہا ہو گا۔ ویسے آپ یہ عمل کبھی بھی شروع کر سکتے ہیں۔ عمل کے یہ اعداد
٤٩٠١٨٠٠٣٣٢٠٦٠
شمع پر لکھیے اور سورہ الفتح ایک مرتبہ پڑھ کر شمع پر دم کر دیجیے۔ حفاظت کے لیے اگر حفاظت کے یہ اعداد ۹٤١۵٤٧٩٨٣٠ شمع کی دوسری سائڈ پر لکھنے ہوں تو بے شک لکھ دیجیے۔ پچھلی پوسٹ میں یہ اعداد دیے تھے کہ جن لوگوں کو بھی میرے کسی بھی عمل میں مشکلات پیش آئیں وہ ان اعداد کو یا تو الگ شمع پر لکھ کر عمل کی شمع کے ساتھ جلا لیں یا عمل کی ہی شمع پر دوسری سائڈ پر لکھ لیں۔ پہلے عمل کے اعداد شمع پر لکھ کر ان پر سورہ فتح ایک مرتبہ پڑھ کر دم کی جائے۔ اسکے بعد دوسری سائڈ پر یا الگ شمع پر حفاظت و حصار کے اعداد لکھے جائیں۔ یہ سب کام عمل کے وقت سے پہلے بھی کیا جا سکتا ہے۔ بوقت عمل شمع یا شمعات کو روشن کر کے 369 مرتبہ یااَللّٰهُ یاقَھَّارُ یافَتَّاحُ پڑھ لیا جائے اور اُسکے بعد یہ دعا نو مرتبہ یا تین مرتبہ پڑھ لی جائے۔
یااللهُ یاقھارُ یافتاحُ اِفࣿتَحࣿ لِیࣿ اَبࣿوَابَ الࣿفَرࣿجِ وَالرࣿ ِزࣿقِ وَاَزِلࣿ عَنِࣿیࣿ النَࣿحࣿسَ وَالࣿعَکُوسَاتِ وَالࣿمَغَالِیࣿقَ جَمِیࣿعَھَا
بِحَقّ ِ قَوࣿلِکَ الࣿحَقّ ِ اِنَّا فَـتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنًا لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّـٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَاَخَّرَ وَيُتِـمَّ نِعْمَتَهٝ
عَلَيْكَ وَيَـهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًا وَيَنْصُرَكَ اللّـٰهُ نَصْرًا عَزِيْزًا
عمل نو دن جاری رکھا جائے۔ اور ہر مہینے سات یا نو دن آپ کر سکتے ہیں۔ اگر عمل لگاتار کرنا چاہیں تو لگاتار بھی کیا جا سکتا ہے جتنے مرضی دنوں تک چاہیں۔
آجکل یہ ڈھنڈورا بھی زور و شور سے پیٹا جا رہا ہے کہ ہم (مراد سو کالڈ اہل علم) اگر شمع بنائیں تو اُسکے ساتھ کسی ذکر کی ضرورت نہیں رہتی جبکہ دیکھیں نا اظہر حسین صادق کی شمعات کے ساتھ کتنے لمبے لمبے اذکار کرنے پڑتے ہیں۔ حالنکہ یہ بات میں لکھ چکا ہوں کہ ذکر کروانا میرا شوق ہے کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ آپ لوگ ذکر کریں تاکہ رب القھار اور اُسکے پاک ملائکہ آپ سے زیادہ سے زیادہ اُنس رکھیں اور ذکر کی برکات آپکی زندگیوں میں شامل ہوں اور یہ کہ شمع اکیلے بھی کام کرتی ہے بغیر زکر کے۔ اب چند نام نہاد عناصر اپنی سو کالڈ علمیت میں جو مرضی دعوے کرتے پھریں، کم از کم آپ لوگوں کو حقیقت سے آگاہ ہونا چاہیے۔ سو عرض ہے کہ اگر آپ لوگوں کے پاس اگر وقت کم ہو تو مندرجہ بالا عمل میں شمع جلا کر اسمائے الہی کے ورد کے بغیر صرف عزیمت نو، اٹھارہ، چھتیس یا پینتالیس مرتبہ پڑھ لیجیے۔ لیکن میری پرسنل خواہش یہی ہے کہ آپ پہلے اسمائے الہی کا ورد کریں اور پھر عزیمت نو مرتبہ کیونکہ مجھے تو ذکر کروانے کا شوق ہے۔ اور ہاں میری شمع بھی ذکر کی شوقین ہے، جتنا آپ ذکر کریں گے، شمع کے روحانی خدام اُتنے ہی زیادہ آپ سے مانوس ہونگے۔ اگر آپکو یہ بکواس بھلی لگتی ہے کہ کسی کی شمع ذکر کی محتاج نہیں اور اظہر حسین صادق کی ہے، تو ایسے ہی سہی۔ میری شمع اور میں ہمیشہ سے ذکر کے محتاج تھے، ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ اگر میری اور میری شمع کی ذکر کی محتاجی کی وجہ سے کوئی مجھے کمتر سمجھتا ہے یا میں اس لحاظ میں اگر کمتر ہوں بھی تو مجھے یہ کمتری قبول ہے۔ میرے نزدیک تو میرا ذکر ہی سب کچھ ہے۔ باقی سب کچھ ٹن ٹن ٹن ہی ہے۔ ویسے بھی جو بندہ ذکر کی خصوصیت و آفادیت سے آگاہ نہیں وہ شمع کے بارے کونسے راز و حقائق جانتے ہونگے۔ انکی مثال ایسی ہے کہ جیسے عامل کامل حصہ دوم سے دیکھ کر کوئی بھی بندہ کوئی بھی نقش کاپی کر لیں۔ جو لوگ صحیح احادیث کو جھٹلاتے ہوں اور اس عقیدے کے حامل ہوں کہ قرآن مجید حاجت میں پڑھنے سے اسکے موکلات آپکو مختلف قسم کی دنیاوی پریشانیوں میں مبتلا کر دیتے ہیں، انکی ذہنی و علمی برتری یا پستی جاننے کی ضرورت نہیں، وہ اظہر من الشمس ہے۔
صدق الله العلی العظیم
وَاللّٰه اعلی و اعلم۔
Please follow and like us:

