spiritual revelations

الطَّرِيقَةُ الرُّوحَانِيَّةُ الْقَوِيَّةُ لِزَكَاةِ ٱلِاسْمِ ٱلْقَهَّارِ

اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم

بسم اللہ القاہر القھار

بڑے دن ہو گئے کوئی عمل و ذکر قھار نہیں کیا۔ خیال آیا کہ کہ قھار کا کوئی ذکر کروایا جائے، چند دن سوچتا رہا کہ کیسا عمل ہونا چاہیے کہ ایک دن خواب میں ایک بہت دیو ہیکل بزرگ آئے اور کہنے لگے کہ بڑی دور سے آپکو ملنے آیا ہوں۔ میں نے پوچھا کیوں۔ کہنے لگے چرچا تھا ہماری دنیا میں کہ کوئی ذکر قھار شروع ہونے والا ہے اور کروانے والے اظہر حسین صادق ہیں۔ کافی دن انتظار کیا لیکن کوئی ذکر نہ دیکھا تو پھر سوچا کہ چلو اُس شخص سے مل کر پوچھا جائے کہ آخر ذکر قھار میں اتنی دیر کیوں۔ میں نے اُنکی رعب دار شکل کی طرف دیکھا جو بیک وقت نہایت رعب دار بھی تھی اور نہایت شفیق بھی اور پوچھا کہ آپکا نام کیا ہے۔ اُنھوں نے جو نام بتایا تو میں حیران و پریشان رہ گیا کہ یہ شخصیت مجھ سے ملنے کیسے آ گئی۔ نام سننے کے بعد میں نے کچھ نہ کہا، کیونکہ کہنے کو کچھ سوجھا ہی نہیں۔ بس حیرانگی تھی۔ پھر وہ مسکرائے اور کہنے لگے کہ ۳۸۱۶ پر دھیان دیجیے اور شروع کیجیے۔ اور ساتھ ہی میری ملازمہ نے ناشتہ ریڈی ہونے کی خبر سنائی اور میرا دل کیا کہ منہ توڑ دوں اسکا لیکن بس کر کچھ نہ سکا اور خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا۔

ہم نو نومبر ۲۰۲۵ سے اسم الہی یا قھارُ کا ایک ذکر شروع کرینگے۔ ہر روز ۳۸۱۶ مرتبہ پڑھ کر اٹھارہ دنوں میں ۶۸۶۸۸ کی تعداد پوری کرینگے۔ اگر کوئی چاہے تو صبح شام دو وقت ۳۸۱۶ کی تعداد میں ورد کر کے نو دنوں میں بھی عمل مکمل کر سکتا ہے۔ یہ عمل نو تاریخ کو شروع کر لیں، اٹھارہ تاریخ کو شروع کر لیں یا ستائیس تاریخ کو۔ یہ عمل چونکہ روحانی دنیا کی ایک نہایت معتبر شخصیت کی اجازت سے شروع ہو رہا ہے اسلیے اسکا کرنے والا اسم الٰہی قھار کے فیض سے پوری طرح فائدہ اٹھائے گا بفضل قھار۔

قھار اصل میں ہے کیا؟

کسی بھی اسم الٰہی کو پہچاننے یا جاننے کے لیے اُن حروف کا علم ضروری ہے جس سے وہ اسم الٰہی تخلیق کیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا راز ہے جو آج بیان کر دیا۔ آپ کہیں اور اسکا ذکر نہ پائیں گے۔ قھار کے اندر چار حروف ہیں، ق، ھ، ا، ر۔ قَهّار کے معنی اور اثرات کو اس کے چار حروف: ق، هـ، ا، ر کی روشنی میں سمجھنا دراصل اس اسمِ جلالی کی باطنی ساخت (inner mystical structure) کی تفسیر ہے۔

آئیے اسم پاک کو حرف بہ حرف کھولتے ہیں، تاکہ “قَهّار” کی روحانی قوت پوری طرح ظاہر ہو۔

1. ق (قاف)

قاف، قوت، قَدر، قُرب، قَهر، قَیُّومیت کا مظہر ہے۔

یہ حرف “احاطہ” اور “اقتدار” کی علامت ہے جیسے “قاف” پہاڑ جو تمام زمین کو گھیرے ہوئے بتایا گیا۔ (اسکی تفسیر بھی کبھی بیان کرونگا)۔

ق قوتِ الٰہی کا مرکز ہے۔ جس دل میں “قاف” کا نور داخل ہو، وہ غلبہ و حفاظت کا قلعہ بن جاتا ہے۔ یہ حرف حدود قائم کرتا ہے: دشمنوں، وساوس، یا باطل طاقتوں کے مقابلے میں ایک دائرۂ تحفظ۔

روحانی لفظی طاقت: “ق” قاطعِ باطل و جامعِ حق۔

2. هـ (ہا)

ہا، ھُوَ (وہ اللہ) کی طرف اشارہ ہے۔

یہ حرف سرِّ الوجود اور نفَسِ رَحمٰن کی علامت ہے۔

ہا، قھر میں رحمت کا توازن لاتا ہے۔ “هاء” دل کے اندر اللہ کی حضوریت جگاتا ہے یعنی قھر بھی صرف عدل و حق کے ساتھ۔ اس لیے جہاں “ق” جلال ہے، وہاں “ہا” جمال ہے۔

روحانی لفظی طاقت: “هـ” نفَسُ اللهِ فی القَهر ، قھر میں اللہ کا سانسِ رحمت۔

3. ا (الف)

الف تمام حروف کا اصل و محور ہے۔

یہ وحدت، احدیت، اور مرکزیتِ الٰہی کی علامت ہے۔

الف قہار میں توحید کا نور داخل کرتا ہے تاکہ قھر ذاتی یا نفسانی نہ رہے، بلکہ اللہ کی وحدت سے منسلک ہو۔ الف کی سیدھی لکیر استقامت اور سیدھی راہ کی نشانی ہے۔ یہ تمام طاقتوں کو اللہ کی طرف متوجہ و منسوبکرتا ہے۔

روحانی لفظی طاقت: “ا” واحد القَهر، جامعُ الأسماء.

4. ر (راء)

راء “رُؤْيَة” (دیکھنا)، “رَحمة”، “رَونَق” اور “رُجوع” کا حرف ہے۔

اس میں حرکت، تجلی، اور اظہار کی خاصیت ہے۔

قہار میں “راء” وہ آخری تجلی ہے جو قھر کے بعد عدل و سکون لاتی ہے۔ “راء” قھر کو نتیجہ دیتی ہے: ظالم کا زوال اور مظلوم کا اطمینان۔ اس سے فیضانِ قھر ظاہر ہوتا ہے جو نظام کو درست کرتا ہے، نہ کہ برباد۔

روحانی لفظی طاقت: “را” تجلیُ القهر فی العدل

پس قَهّار” یعنی وہ ذات

جو اپنی وحدتِ کاملہ کے ساتھ ہر چیز پر محیط ہو،

اپنی قوتِ قُدسی سے باطل کو مغلوب کرے،

اور اپنے عدل سے نظامِ وجود کو درست کرے۔

میرے خیال میں اظہر حسین صادق کے علاوہ کسی بندے کو آج تک توفیق نہیں ہوئی کہ وہ قھار کی ایسی تشریح کرے۔ اور مجھے ایسا کرنے پر شدید فخر ہے۔

قھار کے سلسلے میں جس نمبر ۳۸۱۶ پر مجھے فوکس کرنے کو کہا گیا۔ آئیے اس نمبر کے بارے کچھ جاننے کی کوشش کریں۔ (میں نے اس مرتبہ کا قھار کا عمل پورے کا پورا اس عدد کے مطابق تیار کیا ہے یہاں تک کہ اسکی شمع بھی)۔

۳۸۱۶ تمام کے تمام even نمبرز جو ایک سے دس کے درمیان ہیں، اُن سے تقسیم ہوتا ہے یعنی دو، چار، چھ، آٹھ۔ یہ نمبر اللھم کے اعداد ۱۰۶ سے بھی تقسیم کھاتا ہے۔ یعنی عددی طور پر اگر ۱۰۶ کی طاقت کو چھتیس گنا کیا جائے تو ۳۸۱۶ وجود میں آتا ہے جس سے ہم اس نمبر کی طاقت کے بارے صرف اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کتنا طاقتور ہے۔ باسط کے اعداد ۷۲ کو اگر ۵۳ سے ضرب دی جائے تو ۳۸۱۶ وجود میں آتا ہے۔ یعنی اس عدد ۳۸۱۶ میں اللھم اور باسط کے اعداد کی کئی گنا طاقت پوشیدہ ہے۔ اس عدد کا تعلق صرف قھار سے ہی نہیں بلکہ اللھم اور باسط سے بھی ہے اور مجھے اُمید ہے کئی اور اسمائے الٰہی سے بھی ہو گا لیکن فی الحال میرے پاس لمبی ریسرچ کرنے کا وقت نہیں تھا۔ ۱۰۶ کو اگر ۷۲ کے ساتھ ضرب دی جائے، یعنی اللھم کو باسط کے ساتھ، تو ۷۶۳۲ وجود میں آتا ہے اور یہ بھی ۳۸۱۶ سے مکمل تقسیم ہوتا ہے۔ یعنی اگر ۳۸۱۶ کو دو گنا کیا جائے تو ۷۶۳۲ وجود میں آتا ہے۔ اب آپ دیکھ رہے ہونگے اعداد کا آپس میں عجیب و غریب تعلق۔ (اسپر بھی کوشش ہو گی کہ ایک قھار کا پورا مضمون اللھم باسط کے ساتھ لکھا جائے)۔

اب میں آپکو اس نمبر ۳۸۱۶ کے کچھ اثرات بتاتا ہوں۔ کسی نمبر کے اثرات جاننے کے لیے میں ہمیشہ کچھ روحانی مدد لیتا ہوں تاکہ صرف اپنی طرف سے پھڑیں نہ مار دوں۔ یہ نمبر ۳۸۱۶ قھری و دفاعی اثر رکھتا ہے یعنی دشمنوں، رکاوٹوں، سحر و حسد وغیرہ کے ازالے میں مؤثر تصور کیا جاتا ہے۔

اثر کی نوعیت:

ظاہری: دشمن کے شر سے حفاظت، فیصلے میں غلبہ، قوتِ ارادی میں اضافہ۔

باطنی: نفس و خواہشات پر غلبہ، روح میں استقامت و طاقت۔

یہ عدد ایسی قھری توانائی کی نمائندگی کرتا ہے جو وحدت، نظم، اور مرکزیت کے تابع ہو۔

دوسرے لفظوں میں قھر الٰہی جو نظام اور عدل کے ساتھ ظاہر ہو۔

۳۸۱۶ میں “اختتام اور نیا آغاز” جیسے اثرات بھی ہیں۔ یہ طاقت، اختیار، کا عدد ہے۔

اگر کوئی ذکر ۱۸ دن تک ۳۸۱۶ بار کیا جائے (کل ۶۸۶۸۸ بار)، تو نتیجہ ایک نورانی تکمیل کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے یعنی

“جو کام یا دعا اس عدد کے ساتھ کی جائے، وہ اپنی روحانی انتہا تک پہنچتی ہے، اگر نیت صاف ہو تو فیضانِ کامل اور اثرِ دائمی ظاہر ہوتا ہے۔”

اگر یہ ورد کسی خاص مقصد (مثلاً شفا، رزق، فتح، یا قربِ الٰہی) کے لیے کیا جائے تو اثرات درج ذیل طرز پر ہوں گے۔

شفا۔ جسم و روح میں توازن، تسکین، اور اندرونی سکون

رزق۔ نئے دروازے کھلنا، غیر متوقع سہولتیں

دشمن یا مشکل رکاوٹوں کا خاتمہ، غالب آنا

قربِ الٰہی۔ دل کی روشنی، خواب و کشف کی صفائ۔

اس عمل کی شمع ایک خاص طریقے سے ترتیب دی گئی ہے۔ یہ شمع بھی عدد ۳۸۱۶ کے حساب کے مطابق ایک نئے طریقے سے بنائی گئی ہے۔ جب اس شمع کا تجربہ کیا گیا تو یہ چیزیں سامنے آئیں۔

اس شمع کا بنیادی مزاج قھری، تطہیری اور حفاظت دینے والا ہے۔

یہ شمع کسی بھی بندش، حسد یا سحر کو “جلانے” یا “توڑنے” کی قوت رکھتی ہے۔

یہ شمع قھر کے ساتھ نور اور اقتدار کی چمک بھی پیدا کرے گی، یعنی صرف جلا دینے والی نہیں بلکہ “روشنی بحال کرنے والی” قھاریت ہے۔

زحل کی “رُکاؤٹ” یا “بھاری پن” اس شمع پر اثر نہیں ڈالے گا۔ یعنی یہ شمع نحس یا بوجھ پیدا نہیں کرے گی، بلکہ الٹا بوجھ کو زائل کرے گی۔

یہ شمع  “توازنِ قھر” پیدا کرتی ہے، کیونکہ یہ شمع انتقام یا ہلاکت کی نہیں بلکہ عدل، صفائی، اور روحانی نظم کی قھاریت رکھتی ہے۔ یعنی یہ شمع بندشیں کھولنے، ظلم ختم کرنے، اور طاقت کو منظم کرنے میں معاون ہوگی۔

اس شمع کے روحانی اعداد رحمت کے توازن کی علامت ہیں۔

یعنی یہ شمع قھاریت اندھی تباہی نہیں لائے گی، بلکہ رحمت کے ساتھ ظلم کو زائل کرے گی۔

یہ شمع قوّتِ ارادہ اور ضبطِ نفس کو بڑھائے گی۔ نفس میں دبدبہ، وقار، اور کلام میں تاثیر پیدا ہو گی۔

قھّار کی یہ شمع رکاوٹیں توڑتی ہے اور ظالم یا حسود کے ہاتھ سے رزق واپس لاتی ہے۔

یعنی چھپا ہوا رزق ظاہر، دشمن کا مال واپس، روزی کا دروازہ کھلتا ہے۔

یہ شمع ذاکر کے کلام میں ہیبت پیدا کرتی ہے۔ یعنی آپ کی تحریر یا زبان سے نکلا لفظ اثر ڈالتا ہے۔

یہ شمع تطھیر ہے۔ اگر گھر میں منفی توانائی یا جناتی اثر ہو تو قھّار اسے توڑ دیتا ہے۔  جادو، حسد، اور نظرِ بد کے خلاف خاص قوت پیدا ہوتی ہے۔ جنّی اثرات یا بندشیں ٹوٹتی ہیں، چھپی ایذائیں زائل ہوتی ہیں۔

یعنی جادو و جنات کا زوال، اور بیماری کی جڑ کٹتی ہے۔ سحر کا زوال، نادیدہ دشمنوں کا ختم، روحانی دفاع مستحکم جیسے اثرات۔

یہ شمع تخلیقی و روحانی قوتوں کو نظم اور قھر دونوں میں لاتی ہے۔ یعنی عقل میں فیصلہ کن قوت، خوابوں کی تعبیر میں صواب، اور اولاد پر حفاظتی اثر۔

یہ شمع قھر کے ساتھ تسخیرِ خلق کی قوت دیتی ہے۔ لوگ دل سے ماننے لگتے ہیں، مخالف نرم پڑتا ہے۔ یعنی تعلقات میں ضبط و غلبہ، ازدواجی معاملات کی بہتری۔

یہ شمع غیبی دروازے کھولتی ہے۔ باطنی قوتیں ظاہر، راز منکشف، اور منفی ارواح زیر ہو جاتی ہیں۔ یعنی قھرِ باطن، روحانی طاقت کی بیداری، اور خفیہ مدد۔

قرآنی طاقت کی حامل یہ شمع نورانی تجلی ظاہر کرتی ہے۔علم میں وسعت، اور کلامِ الٰہی کے الفاظ میں روشنی بڑھتی ہے۔ یعنی الہام، کشف، اور قرآنی معنی کی فہم عطا ہو گی بفضل قھار۔

قھّار کی یہ شمع باطل کے نظاموں پر غلبہ دیتی ہے۔ یعنی عزت، قوتِ فیصلہ، بااثر مقام، اور مخالفین کی کمزوری کے اثرات۔

یہ شمع دعا کی قبولیت اور مراد کی تکمیل کا باعث بنے گی۔ یعنی نفع، شہرت، مالی فائدہ، کامیاب منصوبوں جیسے اثرات۔

خلاصہ کے طور بتا دوں کہ اس شمع کے اثرات دفعِ شر، روحانی قھر، رزق کی بحالی، اور عزت کے استحکام کے ساتھ ظاہر ہوں گے۔ اس کی روشنی جنّاتی بندشیں کاٹنے والی اور نورِ تسخیر پیدا کرنے والی ہوگی۔

شمع کے اعداد یہ ہیں۔ شمع کو ہمیشہ اردو یا عربی اعداد میں لکھنا چاہیے۔ ۱۲ سے لکھنا شروع کرینگے شمع کے آگ والے حصے سے نیچے کی طرف۔ صفر کی جگہ اپنے پین کی نب کو موم بتی کے اندر ایسے گھسائیں گے کہ وہاں پر ایک چھوٹا سا سوراخ بن جائے۔ یہ صفر کہلائے گا۔ شمع کو لکھ کر اِسکے اوپر آیت مبارکہ لِمَنِ الْمُلْكُ الْیَوْمَؕ-لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ کو اٹھارہ بار پڑھ کر دم کرنا ہے۔ شمع تیار۔

129454492108032000

اس شمع کے روحانی اعداد کی ایک خاص جھلک آپکو دکھاؤں۔ ۳۸۱۶ کو آپس میں جمع کریں تو اٹھارہ آتا ہے۔ اس شمع کے روحانی اعداد بھی اٹھارہ ہی ہندسوں پر مشتمل ہیں۔ اگر اس شمع کے اعداد کو آپس میں جمع کیا جائے تو آخر میں نو ہی بچے گا۔ یہ شمع بلا شبہ میری آج تک کی شمع کی تخلیقات میں ایک ممتاز حیثیت رکھتی ہے۔

اس عمل میں ایک کمال کی دعا بھی شامل ہے جو حروف قھار سے استخراج شدہ اسمائے الٰہی پر مشتمل ہے اور بڑی طاقتور دعا ہے۔ یہ دعا فیض القھاری کہلاتی ہے۔ یہ دعا بھی آپ لوگوں کے لیے ایک تحفہ ہے اگر آپکو اسکی سمجھ آ جائے تو۔

دعاء الفیض القھاری

اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِسِرِّ اسْمِكَ الْقُدُسِيِّ الْقَهَّارِ،

وَبِسِرِّ أَسْمَائِكَ الطَّاهِرَةِ الْمُتَفَرِّعَةِ مِنْ فَيْضِ الْقَهَّارِ،

بِسْمِكَ الْقَوِيِّ الْقَدِيرِ الْهَادِي، هُوَ اللّٰهُ الْأَحَدُ الرَّحِيمُ الرَّؤُوفُ،

أَنْ تَفْتَحَ لِي أَبْوَابَ رِزْقِكَ وَخَزَائِنَ فَضْلِكَ،

وَتُجْرِيَ عَلَيَّ أَنْهَارَ نُورِكَ وَبَرَكَتِكَ،

اَلْقَوِيُّ وَالْقَدِيرُ، قَوِّ عَزْمِي وَوَسِّعْ تَقْدِيرِي،

وَالْهَادِي وَهُوَ، أَدِلَّانِي إِلَى أَسْبَابِ النُّورِ وَالرِّزْقِ،

وَاللّٰهُ الْأَحَدُ، ثَبِّتْنِي فِي تَوْحِيدِكَ وَمَعْرِفَتِكَ وَشُكْرِكَ،

وَالرَّحِيمُ الرَّؤُوفُ، أَنْزِلْ عَلَيَّ سَكِينَتَكَ وَخَيْرَكَ وَرَحْمَتَكَ.

يَا قَوِيُّ، يَا قَدِيرُ، يَا هَادِي، يَا هُوَ،

يَا اَللّٰهُ، يَا أَحَدُ، يَا رَحِيمُ، يَا رَؤُوفُ،

اِقْهَرْ نَفْسِي بِنُورِكَ، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ،

وَارْزُقْنِي رِزْقًا طَيِّبًا وَمَالًا حَلَالًا مُبَارَكًا،

وَأَغْنِنِي بِرَحْمَتِكَ وَقُدْسِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ،

وَثَبِّتْنِي فِي رِضَاكَ وَنُورِ قُرْبِكَ أَبَدَ ٱلآبَادِ.

وَأَنْتَ تُطْرِدُ عَنِّي كُلَّ سِحْرٍ وَشَرٍّ،

وَتَصُدُّ عَنِّي أَثَرَ الْجِنِّ وَمَكْرِهُمْ،

وَتُغَلِّبَنِي عَلَى مَنْ عَادَانِي بِقُدْرَتِكَ وَبِفَيْضِ الْقَهَّارِ.

يَا قَهَّارُ ذَا البَطْشِ الشَّدِيدِ أَنْتَ الَّذِي لَا يُطَاقُ انْتِقَامُهُ، يَا قَاهِرُ

اردو ترجمہ

اے اللہ!

میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے قدوسی و قہاری نام کے راز کے وسیلے سے،

اور ان پاک ناموں کے راز کے صدقے سے جو قہار کے فیض سے شاخیں پکڑے ہوئے ہیں

تیرے نام سے: القوی، القدیر، الهادی، هو، الله، الأحد، الرحیم، الرؤوف —

کہ تُو مجھ پر اپنے رزق کے دروازے اور فضل کے خزانے کھول دے،

اور مجھ پر اپنے نور اور برکت کے نہریں جاری فرما دے۔

اے قوی و قدیر! میرے عزم کو مضبوط اور میری وسعت کو زیادہ کر،

اے ہادی و هو! مجھے نور اور رزق کے اسباب کی طرف رہنمائی فرما،

اے الله الأحد! مجھے اپنے توحید، معرفت اور شکر پر ثابت رکھ،

اے الرحیم الرؤوف! مجھ پر اپنی سکینت، اپنی بھلائی اور اپنی رحمت نازل فرما۔

اے قوی! اے قدیر! اے ہادی! اے هو!

اے الله! اے أحد! اے رحیم! اے رؤوف!

میری نفس کو اپنے نور سے مغلوب کر،

اور مجھ پر اپنے فضل کے دروازے کھول دے،

مجھے پاکیزہ رزق، حلال اور بابرکت مال عطا فرما،

اور اپنی رحمت اور قدس کے وسیلے سے مجھے غیر سے بے نیاز کر دے،

اور مجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنی رضا اور قرب کے نور میں ثابت رکھ۔

اور تُو ہی ہے جو مجھ سے ہر جادو اور ہر شر کو دُور کرتا ہے،

اور جنّات کے اثر اور مکر کو مجھ سے روکتا ہے،

اور اپنی قدرت اور قہار کے فیض سے مجھے میرے دشمنوں پر غالب کرتا ہے۔

اے قہار! اے سخت گرفت والے!

تو ہی وہ ہے جس کا انتقام کوئی برداشت نہیں کر سکتا،

اے قاہر!

اب عمل کا مختصر طریقہ پھر سمجھ لیجیے۔ شمع روشن کر کے ۳۸۱۶ مرتبہ یا قَھَّارُ کا ورد کرنا ہے ایسے کہ پہلے چھ مرتبہ یاقھارُ پڑھنے کے بعد یہ دعا ایک مرتبہ پڑھیے۔ پھر دس مرتبہ یا قھارُ پڑھنے کے بعد مندرجہ بالا دعا ایک مرتبہ پڑھیے۔ پھر آٹھ سو مرتبہ یا قھارُ پڑھ کر یہ دعا ایک مرتبہ پڑھیے۔ پھر تین ہزار مرتبہ یا قھارُ پڑھ کر ایک مرتبہ دعا پڑھ لیجیے۔ اسکے بعد تین مرتبہ اللھم آمین۔ عمل مکمل۔ اگر شمع روشن نہ کر سکیں تو بس روحانی اعداد کو اپنے بائیں بازو پر لکھ کر عمل پڑھ لیں۔

ایک مرتبہ تو آپ یہ اٹھارہ دن کا قھار کا ۳۸۱۶ والا عمل کیجیے۔ ایک میرا مشورہ ہے کہ اٹھارہ دن کا ایک اور عمل کیجیے گا جسمیں شمع کے ساتھ صرف دعا کو اٹھارہ مرتبہ پڑھیے گا۔ اس سے دعاء الفیض القھاری کی بھی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ اس دعا کے بڑے فوائد ہیں۔ چند یہ ہیں۔

یہ دعا پڑھنے والے پر قھر اور لطف کا توازن قائم کرتی ہے۔

باطن میں جلال سے خوفِ خدا، جمال سے محبتِ خدا۔

ظاہر میں نعمتوں کا حصول، رزق کی وسعت، دشمن پر غلبہ، دل پر سکون۔

          روح میں نور، استقامت، اور قربِ الٰہی کا حد درجہ احساس۔

اس عمل کے بعد آپ یاقھارُ کے عامل ہونگے۔ ۹۹ کی تعداد میں پھر روزانہ اپنے ورد میں رکھ سکتے ہیں، ایک وقت بھی، صبح شام بھی، اور ہر نماز کے بعد بھی، جیسے آپکو آسان لگے۔

جو لوگ اس عمل کو کر لینگے، اُنکے لیے اس شمع سے کام لینے کا ایک طریقہ لکھتا ہوں۔ جب بھی کوئی حاجت ہو تو اس شمع کو تیار کر کے اور اسکے اعداد اپنے بائیں بازو پر لکھ کر یا قھارُ کو ۳۸۱۶ مرتبہ پڑھیے۔ اب فرض کریں کہ حاجت یہ ہے کہ شادی ہو جائے۔

چھ مرتبہ یا قھارُ پڑھ کر ایسے مطلب دھرائیے۔

“لمن الملک الیوم لله الواحد القھار

فلاں بنت فلاں کی شادی ہو اور تمام رکاوٹیں دور ہوں

بِاِذࣿنِ اللّٰهِ الࣿوَاحِدِ الࣿقَھَّار۔”

پھر دس مرتبہ یاقھارُ پڑھ کر یہ مطلب دھرائیں، پھر آٹھ سو مرتبہ یا قھارُ پڑھ کر یہ مطلب دھرائیں اور پھر تین ہزار مرتبہ یا قھارُ پڑھ کر یہ مطلب دھرائیں۔ اور اٹھارہ دن عمل کر لیں۔

بس یہ یاد رکھیے کہ جو بھی حاجت ہو، اُسکو شروع لمن الملک الیوم سے کیجیے اور اختتام باذن اللہ الواحد القھار پر کیجیے۔ مزہ نہ آیا تو پیسے واپس (جو ویسے بھی آپ لوگ نہیں دیتے)۔ بس اب اس سے زیادہ آپکی خدمت میرے بس میں نہیں۔

ایک نظم قھار آپکی خدمت میں پیش ہے۔ ایک مرتبہ بچپن میں جب میں بہت بیمار ہو گیا تھا اور مجھے یقین ہو گیا تھا کہ مجھے کبھی صحت نہ ہو گی تو میں نے یہ نظم لکھی تھی۔ گھر کی صفائی کے دوران یہ کاپی نکلی تو سالوں بعد مجھے اپنی لکھی ہوئی یہ تحریر ملی۔

يا قَهّارُ

جب میں بکھر گیا اپنے ہی خیالوں میں،

تو تُو نے قاف کے جلال سے میری حدیں قائم کیں۔

جب میں ٹوٹا اپنی کمزوریوں کے بوجھ تلے،

تو تُو نے هاء کے نَفَس سے مجھ میں سکون اتارا۔

يا قَهّارُ

تُو نے میرے دل کے اندھیروں کو اپنی قھر کی بجلی سے چمکایا،

اور پھر الف کے نور سے وحدت کا چراغ روشن کر دیا۔

تُو نے را کے رُوحانی نغمے سے سکھایا

کہ قھر دراصل عدل کی تجلی ہے،

اور فنا ہی اصل بقا۔

يا قَهّارُ

تُو ہی ہے جو ٹوٹے ہوئے دل میں اپنی قدرت سے توازن لاتا ہے،

تُو ہی ہے جو شور میں سے سکوت پیدا کرتا ہے،

تُو ہی ہے جو محبت کو قھر سے پاک کر کے

محض نور میں بدل دیتا ہے۔

يا قَهّارُ

میرے اندر کے تمام جھوٹ، تمام خودی، تمام خواہشیں

سب کو مٹا دے جیسے تُو پہاڑوں کو چیر دیتا ہے۔

مجھے بھی اپنی ہی تجلی میں فنا کر دے،

تاکہ جو باقی رہے، وہ تیرا جمالِ قھر ہو،

اور میری زبان سے نکلے فقط:

هُوَ القَهّارُ لا قَهرَ إلّا نُورُه.

IMG_0196.jpeg

عربی ترجمہ

نحن – بإذن الله – سنبدأ من تسعة نوفمبر ٢٠٢٥ ذِكرَ اسم الله القهّار، فنقرأه كلَّ يومٍ ٣٨١٦ مرة حتّى نُكمِل في ثمانية عشر يوماً مجموع ٦٨٦٨٨ مرة.

ومن شاء فليقرأه صباحاً ومساءً بالعدد نفسه (٣٨١٦) ليُتمَّ العمل في تسعة أيام فقط.

ويجوز البدء بهذا العمل في اليوم التاسع، أو الثامن عشر، أو السابع والعشرين من الشهر.

وهذا العمل إنّما يُفتتح بإذن إحدى الشخصيات الروحانية الموثوقة جدًّا، ولذلك فإنّ مَن يقوم به ينال – بفضل الله القهّار – الفيض الكامل من اسم القهّار.

ما هو القهّار؟

إنّ معرفة أيّ اسمٍ إلهي لا تتمّ إلا بمعرفة الحروف التي تكوّن ذلك الاسم، إذ إنّ للحروف أسراراً خفيّة لا يكاد يُدركها إلا أهل الذوق.

واليوم أكشف لكم سرًّا قد لا تجدونه في أيّ موضعٍ آخر:

إنّ اسم القَهّار مكوّن من أربعة حروف: ق – هـ – ا – ر.

وفهمُ معنى القهّار من خلال هذه الحروف الأربعة هو في الحقيقة تفسيرٌ لبنيته الباطنية وقوّته الروحية.

فلنفتح هذا الاسم حرفًا حرفًا:

١. حرف القاف (ق)

القاف مظهر القوّة، القَدَر، القُرب، القَهر، و القيّومية.

وهو رمز الإحاطة و الاقتدار، كجبل قاف الذي يُقال إنه يحيط بالأرض.

والقاف مركز القوّة الإلهية، فإذا دخل نوره قلبًا أصبح صاحبه في حصنٍ منيع من الغلبة والحماية.

وهو حرف يُقيم الحدود، فيدفع العدوّ، والسحر، والباطل، والوساوس.

القوّة الروحية للحرف:

“ق” قاطِعُ الباطل وجامعُ الحقّ.

٢. حرف الهاء (هـ)

الهاء تشير إلى هُوَ – أي الله ذاته.

وهي علامة سرّ الوجود و نَفَس الرحمن.

وهذا الحرف يُدخل في القهر ميزان الرحمة، فحيث يكون القاف جلالاً يكون الهاء جمالًا.

إنه يوقظ حضور الله في القلب، ليكون القهر بميزان العدل والحقّ لا بميزان الهوى.

القوّة الروحية للحرف:

“هـ” نفسُ الله في القَهر، ورحمةٌ داخل الجلال.

٣. حرف الألف (ا)

الألف أصل الحروف كلّها ومحورها.

فهو رمز الوحدة و الأحدية و المركز الإلهي.

يدخل الألف نور التوحيد في اسم القهّار، ليكون القهر لله وحده، لا للنفس أو الغضب.

وخطّه المستقيم رمز الاستقامة و الطريق الصواب.

القوّة الروحية للحرف:

“ا” واحدُ القهر، جامعُ الأسماء كلّها.

٤. حرف الراء (ر)

الراء حرف الرؤية، الرحمة، الرونق، و الرجوع.

وهو حامل التجلّي و الحركة و الظهور.

وفي القهّار يمثّل الراء التجلّي النهائي للقهر، أي النتيجة العادلة:

زوال الظالم، وطمأنينة المظلوم.

فالقهر بالراء ليس تخريباً بل إصلاحًا للوجود.

القوّة الروحية للحرف:

“ر” تجلّي القهر في العدل.

خلاصة معنى القهّار

هو الذي يحيط بكل شيءٍ بوحدته الكاملة،

ويُخضع الباطل بقوّته القدسية،

ويُقيم نظام الوجود بعدله،

ويُظهر قهره بالحقّ لا بالظلم.

وأقول – بلا مبالغة – إنّ أحدًا قبل أظہر حسین صادق لم يُوفّق لشرح القهّار بهذه الطريقة، ولِيَ فخرٌ بذلك.

سرّ العدد ٣٨١٦

لقد طُلِب منّي التركيز على العدد ٣٨١٦، ومن أجله صغت كامل عمل القهّار، بل حتى الشّمعة الخاصة مرتبطة به.

وهذا العدد مميّز جدًّا:

• يقبل القسمة على كل الأعداد الزوجية بين ١ و ١٠: ٢، ٤، ٦، ٨.

• يقبل القسمة على عدد اسم “اللهم” وهو ١٠٦.

فإذا ضُرب ١٠٦ في ٣٦ خرج العدد ٣٨١٦.

• عدد “الباسط” (٧٢)، فإذا ضُرب في ٥٣ نتج أيضًا ٣٨١٦.

وهذا يدلّ على أن في العدد قوّة اللهم + قوّة الباسط + قوّة القهّار في تركيب واحد.

وإذا ضُرب ١٠٦ × ٧٢ خرج ٧٦٣٢، وهو عدد ينقسم تمامًا على ٣٨١٦،

أي أنّ ٣٨١۶ × 2 = ۷۶۳۲.

وهذا الارتباط العددي عجيب، وسيأتي – إن شاء الله – جمع “اللهم + الباسط + القهّار” في دراسة لاحقة.

أثر العدد ٣٨١٦

هذا العدد ذو طاقة قهريّة دفاعية، يُستعمل لإزالة:

• السحر

• الحسد

• العوائق

• أذى الأعداء

• التعطيل

آثاره الظاهرة:

• حماية من شرّ العدوّ

• غلبة في الحكم والقرارات

• قوّة الإرادة

آثاره الباطنة:

• غلبة على النفس والشهوات

• ثباتٌ روحي

• قوّة داخلية

إنه عدد يمثّل قهرًا منضبطًا بالنظام والتوحيد.

وفيه طاقة النهاية والبداية، والقوة والسيطرة.

وإذا قُرئ الذكر ٣٨١٦ مرة لمدة ١٨ يومًا (٦٨٦٨٨ مرة)، ظهرت:

“تكملة نورانية”

أي بلوغ الدعاء أعلى درجته الروحية.

آثار العمل إذا نُوي للغرض:

الشفاء: توازن، راحة، طمأنينة

الرزق: فتح أبواب، تسهيل أمور

الأعداء: زوال العوائق، الغلبة

القرب الإلهي: صفاء الرؤيا، نور القلب

شَمعة القهّار الخاصة بالعدد ٣٨١٦

هذه الشمعة صُنعت بطريقة خاصة مبنية على سرّ العدد ٣٨١٦، وقد ظهرت عند تجربتها النتائج التالية:

• ذات طبيعة قهريّة، تطهيريّة، حامية.

• تكسر السحر، الحسد، والعقد الروحية.

• ليست شمعة تخريب، بل شمعة قهرٍ عادل يُعيد النور والنظام.

• لا تتأثر بثقل زحل أو النحوس، بل تُزيل الثقل وتفتح الطريق.

• تُنظّم القوى الروحية، وتُطهّر المكان من الطاقات الفاسدة.

• تُقوّي الإرادة، وتهب الوقار وهيبة الكلام.

• تكسر التسلّطات الجنيّة والطاقات السلبية.

• تُعيد الرزق المسلوب وتفتح الأبواب المغلقة.

• تُليّن قلب الخصم، وتُصلح العلاقات الزوجية.

• تُظهر القوى الباطنية، وتفتح أبواب الكشف والعلوم الروحانية.

• تُوسّع الفهم القرآني وتزيد نور الكلمة.

• تُعطي عزّة وغلبة ومكانة.

• تُيسّر قبول الدعاء ونجاح المقاصد.

كتابة أعداد الشمعة:

١٢٩٤٥٤٤٩٢١٠٨٠٣٢٠٠٠

• تُكتب بالأرقام العربية أو الأوردية.

• يبدأ الكتابة من الرقم ١٢ أعلى اللهب، نزولاً.

• مكان الصفر يُصنع بثقب صغير داخل الموم.

• بعد الكتابة تُقرأ الآية:

لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۖ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ

عدد ١٨ مرة، ثم تُنفخ عليها.

فتكون الشمعة جاهزة.

واللافت أنّ مجموع ٣٨١٦ = ١٨، وأنّ عدد خانات أعداد الشمعة ١٨ رقمًا،

ومجموع أعدادها ينتهي بـ ٩.

وهي – بلا شك – أعظم شمعة صنعتها إلى اليوم.

دعاء الفيض القهّاري (مبني على حروف القهّار)

وقد أُدرج في هذا العمل دعاءٌ خاص، مُستخرج من حروف القهّار ومن أسمائه، ويسمّى:

“دعاء الفَيْض القَهّارِي”

وهو هديّة لمن يفهم أسراره.

أوّلًا: طريقة العمل المختصرة

يُوقَدُ السِّراجُ الخاصّ، ثُمَّ يُذْكَرُ اسمُهُ تعالى «يَا قَهَّارُ» بعددِ ٣٨١٦ مرّةً، وذلك على الترتيب الآتي:

1. يُقَالُ «يَا قَهَّارُ» سِتَّ مَرَّاتٍ، ثُمَّ تُتْلَى دُعَاءُ «الفَيْضِ القَهَّارِي» مَرَّةً وَاحِدَةً.

2. ثُمَّ يُقَالُ «يَا قَهَّارُ» عَشْرَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ تُقْرَأُ الدُّعَاءُ مَرَّةً.

3. ثُمَّ يُقَالُ «يَا قَهَّارُ» ثَمَانِمِائَةِ (٨٠٠) مَرَّةٍ، ثُمَّ تُقْرَأُ الدُّعَاءُ مَرَّةً.

4. ثُمَّ يُقَالُ «يَا قَهَّارُ» ثَلَاثَةُ آلَافٍ (٣٠٠٠) مَرَّةٍ، ثُمَّ تُقْرَأُ الدُّعَاءُ مَرَّةً.

5. ثُمَّ يُخْتَمُ العَمَلُ بِقَوْلِ: «اللَّهُمَّ آمِينَ» ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.

وَبِذَلِكَ يَتِمُّ العَمَلُ.

وَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعِ المُرِيدُ إِيقَادَ السِّرَاجِ، فَلْيَكْتُبِ الأَعْدَادَ الرُّوحَانِيَّةَ عَلَى ذِرَاعِهِ اليُسْرَى، ثُمَّ يُؤَدِّي العَمَلَ عَلَى هَذِهِ الهَيْئَةِ.

ثانِيًا: عَمَلٌ آخَرُ لِمُدَّةِ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ يَوْمًا

أُوصِيكَ – مَعَ العَمَلِ الأَوَّلِ – أَنْ تَعْمَلَ عَمَلًا آخَرَ لِمُدَّةِ ١٨ يَوْمًا:

تُوقِدُ السِّرَاجَ، ثُمَّ تُتْلَى دُعَاءُ «الفَيْضِ القَهَّارِي» ثَمَانِيَةَ عَشَرَ (١٨) مَرَّاتٍ.

وَبِذَلِكَ تُؤَدَّى زَكَاةُ هَذِهِ الدُّعَاءِ العَظِيمَةِ.

ثالِثًا: فَوَائِدُ دُعَاءِ «الفَيْضِ القَهَّارِي»

هذه الدُّعَاء تُحْدِثُ تَوَازُنًا بَيْنَ القَهْرِ وَاللُّطْفِ:

• في الباطن:

• يَجْلِبُ جَلَالُهَا خَوْفَ اللهِ،

• وَجَمَالُهَا مَحَبَّةَ اللهِ.

• في الظاهر:

• اتِّسَاعُ الرِّزْقِ،

• نَيْلُ النِّعَمِ،

• الغَلَبَةُ عَلَى العَدُوّ،

• طُمَأْنِينَةُ القَلْبِ.

• في الرُّوح:

• نُورٌ وَاسِع،

• اسْتِقَامَة،

• وَإِحْسَاسٌ عَالِي بِالقُرْبِ الإِلَهِي.

رابِعًا: بَعْدَ إِتْمَامِ العَمَل

بَعْدَ إِتْمَامِ العَمَلِ كَامِلًا، يَصِيرُ القَارِئُ «عَامِلًا بِاسْمِ يَا قَهَّارُ».

ثُمَّ يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى ذِكْرِ «يَا قَهَّارُ»:

• بعدد ٩٩ يوميًّا،

• في أيِّ وقت،

• أَوْ بَعْدَ كُلِّ صَلَاة،

• أَوْ صَبَاحًا وَمَسَاءً.

بِحَسَبِ مَا يَسْهُلُ عَلَيْهِ.

خامِسًا: طَرِيقَةُ الاسْتِفَادَةِ مِنَ السِّرَاجِ لِقَضَاءِ الحَاجَات

إِذَا أَرَادَ العَامِلُ قَضَاءَ حَاجَةٍ، فَلْيُهَيِّئِ السِّرَاجَ كَمَا سَبَقَ، وَلْيَكْتُبْ أَعْدَادَهُ الرُّوحَانِيَّةَ عَلَى ذِرَاعِهِ اليُسْرَى، ثُمَّ يَقْرَأُ «يَا قَهَّارُ» عَدَدَ ٣٨١٦ مَرَّةً، وَلْيَجْعَلْ دُعَاءَ الحَاجَةِ عَلَى التَّرْتِيبِ الآتِي:

مثال: حَاجَةُ الزَّوَاج

1. يُقَالُ «يَا قَهَّارُ» سِتَّ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يُتْبَعُ بِهَذَا المَطْلَب:

«لِمَنِ المُلْكُ اليَوْمَ؟

لِلَّهِ الوَاحِدِ القَهَّار.

لْتَتَيَسَّرْ زَوَاجُ فُلَانٍ بِنْتِ فُلَانٍ،

وَلْتُزَلْ كُلُّ العَوَائِقِ،

بِإِذْنِ اللهِ الوَاحِدِ القَهَّار.»

2. ثُمَّ يُقَالُ «يَا قَهَّارُ» عَشْرَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ يُعَادُ المَطْلَبُ نَفْسُهُ.

3. ثُمَّ يُقَالُ «يَا قَهَّارُ» ثَمَانِمِائَةِ مَرّة، ثُمَّ يُعَادُ المَطْلَب.

4. ثُمَّ يُقَالُ «يَا قَهَّارُ» ثَلَاثَةُ آلَافِ مَرّة، ثُمَّ يُعَادُ المَطْلَب.

وَيُسْتَمَرُّ عَلَى ذَلِكَ مُدَّةَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ يَوْمًا.

قاعدة عامّة لِكُلِّ حَاجَة

الحَاجَةُ – مَهْمَا كَانَت – تَبْدَأُ بِقَوْلِ:

«لِمَنِ المُلْكُ اليَوْمَ؟ لِلَّهِ الوَاحِدِ القَهَّار.»

وَتُنْهَى بِقَوْلِ:

«بِإِذْنِ اللهِ الوَاحِدِ القَهَّار.»

خِتَامٌ خَفِيفٌ كَمَا قُلْتَ

وَإِنْ لَمْ تَرَوْا النَّتِيجَةَ فَالْمَالُ مَرْدُود…

مَعَ أَنَّكُمْ لَا تُعْطُونَ شَيْئًا أَصْلًا!

وَلَكِنْ هَذَا مَا اسْتَطَعْتُهُ مِنَ الخِدْمَةِ.

Please follow and like us:
fb-share-icon

Leave a Comment