زیارت رسول و درود کوثر
اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
بسم اللہ القاھر القھار
حضرت محمد ﷺ کو خواب میں دیکھنا ایک ایسی سعادت ہے جو ہر مومن کے دل کی سب سے بڑی تمنا ہوتی ہے۔ یہ محض ایک خواب نہیں بلکہ روحانی سکون اور قلبی سرور کا ایسا لمحہ ہے جو انسان کی پوری زندگی بدل سکتا ہے۔ جب کوئی شخص خواب میں حضور اکرم ﷺ کی زیارت کرتا ہے تو گویا اس پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت کا نزول ہوتا ہے۔ اس لمحے میں دل کی تمام پریشانیاں دور ہو جاتی ہیں اور روح ایسی روشنی سے منور ہو جاتی ہے جو کسی اور ذریعے سے حاصل نہیں ہو سکتی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
“جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو یقیناً اس نے مجھے ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری شکل اختیار نہیں کر سکتا۔” ( اس حدیث کے ترجمے کو زبانی یاد کر لیجیے لازمی)
یہ حدیث اس بات کا اعلان ہے کہ خواب میں آپ ﷺ کی زیارت حقیقی زیارت ہے، اور یہ ایک خوش خبری بھی ہے کہ دیکھنے والے کا تعلق حضور ﷺ کی محبت کے ساتھ جڑ گیا ہے۔ لیکن یہ محبت محض زبانی یا جذباتی نہیں ہونی چاہیے بلکہ عملی پیروی کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اسی لیے قرآن کریم میں ارشاد ہوا:
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
(آل عمران: 31)
“(اے نبی ﷺ!) کہہ دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا، اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔
پس زیارت رسول کی اس سعادت کا نصیب ہونا ایمان کی تازگی اور اللہ تعالیٰ کی خاص توفیق کی علامت ہے۔
بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص زیارتِ رسول ﷺ کے عمل میں لگتا ہے، دل کی گہرائیوں سے دعا کرتا ہے، اور عشق و محبت کے ساتھ کوشش کرتا ہے کہ خواب میں حضور ﷺ کی زیارت نصیب ہو، لیکن کبھی زیارت مکمل نہیں ہوتی یا خواب ادھورا سا رہ جاتا ہے۔ زیارت کا نہ ہونا یا ادھورا ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ بندہ محروم ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ابھی اسے مزید تیاری، مزید اخلاص اور مزید پاکیزگی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ حضور ﷺ کی زیارت کوئی عام شے نہیں، یہ ایک عظیم نعمت ہے جو دل کے صاف ہونے، نیت کے خالص ہونے اور سنت کے قریب ہونے کے بعد عطا کی جاتی ہے۔ یوں سمجھنا چاہیے کہ زیارت کا ادھورا رہ جانا اصل میں دعوت ہے کہ بندہ اپنی محبت کو مزید گہرا کرے، اپنے عمل کو درست کرے اور اللہ سے امید قائم رکھے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت اور اتباع ہی اصل کامیابی ہے، چاہے زیارت دنیا میں مکمل نصیب ہو یا پھر آخرت میں۔
زیارت رسول محمد کریم کا ایک عمل پیش خدمت ہے۔ یہ عمل کسی بھی مبارک رات میں کیا جا سکتا ہے اور اسکے علاوہ جمعرات و جمعہ کی درمیانی رات کو بھی ہو سکتا ہے۔ بہتر ہے کہ ہر ہفتے اس کو جمعہ کی رات میں دھرا لیا جائے، قطع نظر اس بات سے کہ زیارت ہوتی ہے یا نہیں کیونکہ اس عمل کے اور بھی بہت سے فوائد ہیں جو آخر میں لکھونگا۔ ذہن میں رہے کہ اس عمل کی اجازت میری طرف سے صرف اُسی کو ہے جس نے میرے ساتھ میرے طریقے کار کے مطابق سورہ کوثر کو کوئی بھی عمل کیا ہو۔ اگر آپ نے سورہ کوثر کو پچاس لاکھ بھی پڑھ رکھا ہو لیکن میرے طریقے پر کبھی ورد نہیں کیا تو میری طرف سے اجازت نہیں۔ سورہ کوثر کے میرے طریقے کے مطابق پڑھنے والوں کے لیے مندرجہ ذیل درود پڑھنا ہی سورہ کوثر کی روزمرہ مداومت کے لیے کافی ہے۔
اب اس درود کوثر کو دیکھیے۔ یہ ایک بہت خاص درود ہے۔ جمعہ کی رات یا کسی بھی مبارک رات میں سونے سے پہلے نہا لیجیے۔ اُسکے بعد وضو رہے نہ رہے کوئی فرق نہیں پڑتا (رات کے وقت کچھ لوگوں کو گیس زیادہ رہتی ہے جسکی وجہ سے وضو برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے)۔ پاک صاف بستر پر بیٹھ کر اس درود کو محبت کے ساتھ ۹۲ مرتبہ پڑھیے۔
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ صَاحِبِ الكَوْثَرِ،
وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ،
وَعَلَى مَلَائِكَتِكَ الْمُقَرَّبِينَ، وَعَلَى الجِنِّ الْمُؤْمِنِينَ،
كَمَا قُلْتَ فِي كِتَابِكَ الْمُبِينِ:
﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ * فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ * إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الأَبْتَرُ﴾.
﴿إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ﴾.
(اے اللہ! رحمت بھیج محمد ﷺ پر جو صاحبِ کوثر ہیں،
اور آلِ محمد پر، اور ان کے تمام صحابہ پر،
اور تیرے مقرب فرشتوں پر، اور مؤمن جنات پر،
جیسا کہ تو نے اپنی روشن کتاب میں فرمایا:
“بے شک ہم نے آپ کو کوثر عطا کیا، پس آپ اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔ بے شک آپ کا دشمن ہی بے نام و نشان ہے۔”
“اس کا حکم تو یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اسے کہتا ہے ‘ہو جا’، تو وہ ہو جاتی ہے۔”)
اب يَا جَامِعُ ایک سو چودہ مرتبہ پڑھیے۔ اُسکے بعد مندرجہ ذیل دعا پڑھیے تین بار اور سکون سے سو جائیے۔ کوشش کریں کہ اب کوئی اور کام نہ ہو۔
يَا جَامِعَ الْعَجَائِبِ، يَا رَادَّ كُلِّ غَائِبٍ، يَا جَامِعَ الشَّتَاتِ، يَا مَنْ مَقَالِيدُ الْأُمُورِ بِيَدِهِ،
(رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ)،
أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ بِاسْمِكَ الْجَامِعِ، يَا وَدُودُ، يَا سُبُّوحُ، يَا جَامِعَ الرُّوحِ بِالرُّوحِ،
اجْمَعْنِي بِالنَّبِيِّ الْمَمْدُوحِ، سَيِّدِنَا رَسُولِ اللَّهِ، سَيِّدِنَا مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ،
الصَّادِقِ النَّصُوحِ، صَاحِبِ النَّصْرِ وَالْفُتُوحِ، الْمُؤَيَّدِ بِالْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ، فِي الْحَالَيْنِ الْمَنَامِ وَالْيَقَظَةِ،
وَفِي الدَّارَيْنِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، كَمَا جَمَعْتَ بَيْنَ الرُّوحِ وَالْجَسَدِ، (إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ).
فَإِنَّهُ لَا جَامِعَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مُحَمَّدٍ الْكَرِيمِ الرَّؤُوفِ الرَّحِيمِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ.
(اے عجائب کو جمع کرنے والے! اے ہر غائب کو لوٹانے والے! اے منتشر چیزوں کو جمع کرنے والے! اے وہ کہ جس کے ہاتھ میں تمام امور کی کنجیاں ہیں،
اے ہمارے رب! بے شک تو ہی ہے جو سب لوگوں کو اس دن کے لیے جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں،
میں تجھ سے تیرے اسمِ جامع کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں، اے پیار کرنے والے، اے پاکیزگی والے، اے روح کو روح کے ساتھ جمع کرنے والے،
مجھے نبیِ کریم سے ملا دے، ہمارے سردار رسول اللہ ﷺ، ہمارے سردار محمد بن عبداللہ ﷺ،
جو صادق و نصوح ہیں، نصرت اور فتوحات کے مالک ہیں، فرشتوں اور روح القدس کی مدد سے مؤید ہیں،
خواہ خواب ہو یا بیداری، دونوں حالتوں میں، اور دونوں جہانوں میں، دنیا اور آخرت میں،
جس طرح تو نے روح اور جسم کو جمع کیا ہے، بے شک اللہ وعدے کے خلاف نہیں کرتا
بے شک میرے اور محمد کریم رووف رحیم کے درمیان جمع کرنے والا تیرے سوا کوئی نہیں، اور نہ کوئی طاقت ہے نہ قوت مگر اللہ بلند و برتر عظیم کے ساتھ۔ )
اب بات کرتے ہیں کچھ اس عمل کے بارے۔
اس مندرجہ بالا دعا کے آخر میں محمد کے مبارک نام کے ساتھ کریم رووف رحیم جیسے القابات استعمال ہو رہے ہیں جنکی وجہ سے یہ دعا مجھے بہت محبوب ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ میں اپنی تحاریر میں محمد کے ساتھ کریم کا لقب استعمال کرتا ہوں۔ اور رووف رحیم تو قراں مجید سے ثابت ہیں۔ میں نے یہ عمل کچھ بار کیا تو مجھے زیارت نہ ہوئی۔ ایک دن اتفاق ایسا ہوا کہ کرنے کو بھی کچھ نہ تھا اور میں تھوڑا بیمار بھی تھا اور موڈ بھی سخت خراب تھا (موڈ کی خرابی میں میں درود پڑھتا ہوں) تو میں نے سوچا اس عمل کو آج کرتے ہیں۔ اور ساتھ ساتھ یہ بھی سوچ رہا تھا کہ کونسا عمل پڑھنے سے تجھے زیارت ہو جانی ہے۔ عمل کے ورد کے دوران اب کچھ لوگوں کی حاضری ہوئی اور وہ مسکرائی جائیں۔ تھوڑی دیر تو میں برداشت کرتا رہا پھر میں نے غصے میں پوچھا کہ میں لطیفے تو سنا نہیں رہا، ہنسی کس بات پر آ رہی ہے تم لوگوں کو (موڈ چونکہ خراب تھا تو آپ کی بجائے تم کا لفظ استعمال کیا)۔ آگے سے جواب آیا اور اُس جواب کے بعد جو مجھے شرمندگی ہوئی کہ بس۔ اتنی شرمندگی تو چاکلئٹ کی چوری پکڑے جانے پر بھی نہ ہوئی تھی۔ جواب یہ تھا کہ، “آپکے درود پڑھنے کے انداز پر محمد کریم رووف رحیم مسکرا رہے ہیں، سو ہم بھی مسکرا رہے ہیں”۔ یہ جواب بیک وقت میرے لیے نہایت شرمندگی کا باعث بھی تھا اور ساتھ ساتھ میرے عمل کے قبول ہونے کی نوید بھی۔ عمل کے بعد میں نے نماز پڑھ کر اللہ سے معافی مانگی، شکر ادا کیا اور سو گیا۔ صبح اٹھا تو میری بیماری مکمل غائب تھی۔
اب ملاحضہ کیجیے یہ احادیث۔
عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:
«إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ، يُبَلِّغُونِي مِنْ أُمَّتِي السَّلَامَ»
(سنن النسائي، سنن الدارمي، مسند أحمد)
ترجمہ:
اللہ کے کچھ فرشتے زمین میں گھومتے رہتے ہیں، وہ میری امت کی طرف سے بھیجا جانے والا سلام (درود و سلام) مجھے پہنچاتے ہیں۔
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:
«مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللَّهُ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ»
(سنن أبي داود، مسند أحمد)
ترجمہ:
جو کوئی مجھ پر سلام بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ میری روح کو واپس لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں۔
ایک طرح سے یہ مندرجہ بالا احادیث زیارت رسول ہی کی علامت ہیں۔ ملاقات میں ہمارا کسی کو دیکھ نہ پانا لیکن اُسکا ہماری طرف متوجہ ہونا، زیارت کے زمرے میں ہی آتا ہے۔ ہم نے کسی وجہ سے محمد کریم کو نہ دیکھا لیکن اُنھوں نے ہمیں دیکھ لیا، مقصد تو پورا ہو گیا۔
ایک اہم نکتہ یہاں سمجھ لیجیے کہ عقیدت جتنی بھی بڑھ جائے، لیکن اللہ کے علاوہ کسی سے اپنی حاجات کبھی طلب نہ کیجیے۔ سو درود شریف پڑھیے لیکن ایسے درود شریف یا دعائیں نہ پڑھیے جنمیں آپ محمد کریم سے اپنی حاجات کے پورا نہ ہونے کا شکوہ کر رہے ہوں یا ڈائریکٹ محمد کریم سے ہی حاجات طلب کر رہے ہوں، کیونکہ ایسا کرنے کی تعلیم نہ قرآن سے ثابت ہے نہ سنت محمد کریم سے۔
اس عمل کا درود بہت ہی خوبصورت اور منفرد ہے۔ میری رائے میں اس کی چند نمایاں خوبیاں یہ ہیں:
۱۔ عام درود میں قرآن کی آیات شامل نہیں ہوتیں، لیکن سورۃ الکوثر کا اس درود کا حصہ ہونے سے اس درود کو ایک خاص روحانی شان عطا ہوئی ہے اور یہ درود براہِ راست اللہ کے کلام سے جڑ گیا ہے۔
۲۔ اس میں صرف نبی کریم ﷺ ہی نہیں بلکہ آلِ محمد، صحابہ، ملائکہ، مؤمن جنات بھی شامل ہیں۔
اس طرح یہ درود “آسمانی و زمینی مخلوقات کے ایک دائرے” پر محیط ہو گیا ہے، جو اس کو جامع اور وسیع بنا دیتا ہے۔
۳۔ آخر میں آیت إِنَّمَا أَمْرُهُ—- سے اس درود کو اللہ کی تخلیقی طاقت کے اعلان پر ختم کیا گیا ہے۔
یہ اس درود کو صرف “محبت و رحمت” کا اظہار نہیں بلکہ “قدرتِ الٰہی” کا مظہر بھی بنا دیتا ہے۔
۴۔ “صاحبِ الکوثر” کا لقب درود میں خاص شان پیدا کر رہا ہے۔ اس سے ایک خاص طاقت کا بھی اظہار ہوتا ہے۔
سو یہ درود ایک نایاب اور پرمعنی درود ہے۔
اسے آپ ورد، دعا اور برکت کے لیے بھی پڑھ سکتے ہیں۔
درود پاک پڑھنا ایک عظیم عبادت ہے۔ درود پاک اور اس عمل سے زیارت ہو نہ ہو لیکن درود پاک کی تلاوت اور محبتِ رسول ﷺ کے ساتھ کیا جانے والا عمل دعاؤں کو جلد قبول ہونے کا ذریعہ بنتا ہے۔ بہت سے لوگوں کا یہ فیڈ بیک ہے کہ زیارت کے عمل کے دوران ان کی دنیاوی مشکلات آسان ہونا شروع ہو گئیں۔ لازمی بات ہے کہ زیارت کے عمل میں درود و سلام کی تلاوت اللہ کی رحمت کو کھینچ لاتی ہے۔ زیارت ہو نہ ہو، اس سے مشکلات آسان ہو جاتی ہیں، رکاوٹیں دور ہو جاتی ہیں اور زندگی میں برکت آتی ہے۔ ایسے اعمال انسان کے چہرے اور دل پر ایک خاص نورانی تاثر ڈال دیتے ہیں۔ لوگ بھی اس کے رویے اور انداز میں تبدیلی کو محسوس کرتے ہیں۔
خیر ایک اور دعا پیش خدمت ہے۔ لیکن پہلے ایک حدیث۔
قال رسول الله ﷺ:
«من صلى علي حين يصبح عشرًا، وحين يمسي عشرًا، أدركته شفاعتي يوم القيامة»
(سنن الدارمي، حدیث 2730)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص صبح کے وقت مجھ پر دس مرتبہ درود پڑھے اور شام کے وقت دس مرتبہ درود پڑھے، قیامت کے دن میری شفاعت اسے حاصل ہوگی۔
ایک تو آپ نے اس حدیث کے ترجمے کو یاد کر لینا ہے۔ دوسرا یاد کرنے کے بعد آپ نے اس پر عمل بھی کرنا ہے تاکہ سنت رسول کا ثواب حاصل ہو۔ اور اس صبح شام کے ورد کے بعد یہ دعا جو مندرجہ ذیل ہے، اسکو بھی ایک بار پڑھ لینا ہے۔ یہ دعا بھی نہایت خاص دعا ہے اور درود پڑھنے والوں کے لیے میرا ایک ایسا تحفہ ہے جو قدردان تاحیات نہ بھلا سکے گا۔
الدُّعَاءُ:
اللَّهُمَّ اجْعَلْ دُرُودِي عَلَى نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ ﷺ نُورًا لِقَلْبِي، وَرَاحَةً لِنَفْسِي، وَسَبَبًا لِقُرْبِي مِنْكَ وَمِنْ رَسُولِكَ.
اللَّهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِي، وَيَسِّرْ أَمْرِي، وَارْزُقْنِي صِدْقَ الْمَحَبَّةِ وَحُسْنَ الِاقْتِدَاءِ بِنَبِيِّكَ الْكَرِيمِ ﷺ.
اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِمَّنْ يَرْجُونَ زِيَارَتَهُ فِي الدُّنْيَا، وَيُحْشَرُونَ تَحْتَ لِوَائِهِ فِي الْآخِرَةِ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.
ترجمہ
اے اللہ! میرے نبی محمد ﷺ پر درود کو میرے دل کا نور، میری جان کا سکون اور تیرے اور تیرے رسول کے قرب کا ذریعہ بنا۔
اے اللہ! میرے دل کو پاک فرما، میرے کام آسان کر دے، اور مجھے سچی محبت اور تیرے نبی ﷺ کی پیروی کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں شامل فرما جو دنیا میں آپ ﷺ کی زیارت کے مشتاق رہیں اور آخرت میں آپ ﷺ کے جھنڈے تلے جمع ہوں، تیری رحمت کے صدقے، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
ذہن میں رکھیے گا کہ رات کے وقت ۹۲ مرتبہ درود کوثر پڑھ کر پھر جامع پڑھ کر جو دعا مانگنی ہے زیارت رسول کی، وہ اور ہے، اور صبح شام دس دس مرتبہ درود پڑھ کر جو دعا میں نے پوسٹ کے آخر میں لکھی ہے، وہ اور ہے۔ مکس کر کے ملک شیک نہ بنا دیجیے گا۔
صدق اللہ العلی العظیم
واللہ اعلی و اعلم۔
