spiritual revelations

سواقط فاتحہ قسط

اعوذ بالله من الشیطن الرجیم

إِنَّهُۥ مِن سُلَيْمَٰنَ وَإِنَّهُۥ بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

بسم الله المذل القھار لکل عدو و شیطان۔

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَاؕكَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْایَعْمَلُوْنَ

ترجمہ:

بھلا وہ شخص جو مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندہ کر دیا اور ہم نے اسے روشنی دی کہ اسے لوگوں میں لیے پھرتا ہے وہ اسشخص کے برابر ہو سکتا ہے جو اندھیروں میں پڑا ہو وہاں سے نکل بھی نہیں سکتا، اسی طرح کافروں کی نظر میں ان کے کامآراستہ کر دیے گئے ہیں۔

مومن اور کافر کی مثال اس آیت میں بیان ہو رہی ہے ایک تو وہ جو پہلے مردہ تھا یعنی کفر و گمراہی کی حالت میں حیران وپریشان و مصروف تھا کہ اللہ نے اسے زندہ کیا، ایمان و ہدایت بخشی اتباع رسول الله محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیفضیلت عطا کی اور قرآن جیسا عظیم کلام و نور عطا فرمایا جس کے احکام کی روشنی میں وہ اپنی زندگی گزارتا ہے یہاں تککہ اسلام کی نورانیت اس کے دل میں رچ بس جاتی ہے

دوسرا وہ جو جہالت و ضلالت کی تاریکیوں میں گھرا ہوا ہے اور ان میں سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں پاتا۔

حضرت قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ نور سے کتابُ اللہ یعنی قرآن مراد ہے۔ (تفسیر بغوی، الانعام، تحت الآیۃ: ۱۲۲، ۲ / ۱۰۵)

یاد رکھیے کہ ایمان داروں کا ولی اللہ تعالیٰ ہے وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر نور کی طرف لاتا ہے اور کافروں کے ولیطاغوت ہیں جو انہیں نور سے ہٹا کر اندھیروں میں لے جاتے ہیں یہ ابدی جہنمی ہیں۔

مسند کی ایک حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کر کے پھر اپنا نور ان پر ڈالا جسے اس نور کاحصہ ملا اس نے دنیا میں آکر راہ پائی اور جو وہاں محروم رہا وہ یہاں بھی بہکا ہی رہا ۔ [مسند احمد:صحیح] ‏‏‏‏۔

اس آیت کے آج یہاں پیش کرنے کا ایک خاص مقصد ہے۔ اس آیت میں اسمائے الہی فردُ جبارُ شکورُ ثابتُ ظہیرُ خبیرُ زکیُ کےابتدائی حروف، یعنی فجشثظخز، بالکل ترتیب وار آئے ہیں۔ چونکہ آجکل کچھ موضوع یہ سات اسمائے الہی اور سات حروفہیں تو یہ آیت بھی پیش کر دی۔ ان حروف فجشثظخز کو سواقط فاتحہ بھی کہتے ہیں یعنی یہ سات حروف سورہ فاتحہ میںنہیں آئے۔ یہ حروف اکھٹے صرف سورہ انعام آیت ۱۲۲ میں آئے ہیں یا اگر کوئی اور آیت ہے تو مجھے اسکا پتہ نہیں۔ واللهاعلی و اعلم۔

عاملین کاملین نے اس آیت سے ایک اور مطلب یہ بھی اخذ کیا ہے کہ چونکہ اس آیت میں مردہ کو زندہ کرنے کا مفہوم بیان ہواہے اور چونکہ یہ ساتوں حروف فجشثظخز اس آیت میں آئے ہیں اسلیے ان حروف میں بھی کسی بھی مردہ چیز کو زندہ کرنےاور پھر اسکو زندہ رکھنے کی طاقت ہے۔ اور یہ کوئی قرآن و حدیث کا مفہوم نہیں، عاملین کا ہے سو جسکا دل چاہے مان لے،جسکا دل نہ چاہے نہ مانے۔ ان حروف میں چونکہ مردہ سے زندہ کرنے کی طاقت، بقول عاملین، کے ہے سو یہ حروف کسی کےمرے ہوئے عملیات کو بھی زندگی دے سکتے ہیں۔ پرانے دور میں جب اساتذہ کسی کو میدان عملیات میں لاتے تھے تو سب سےپہلے سواقط فاتحہ کی تعلیم دیتے تھے تاکہ اُسکے عملیات زندہ و جاوید رہیں۔ اب تو ماشاالله آجکل ہم لوگ ہر قسم کے عملیاتکرنے کے بعد سوچتے ہیں کہ سواقط فاتحہ کو بھی تھوڑا آزما لیا جائے کیونکہ باقی عملیات چل جو نہیں رہے ہوتے۔ مندرجہ بالاآیت میں بلاشبہ مردے کو زندہ کرنے کی طاقت ہے۔ یہ اگر صرف آیت ہی عام طریقے سے لکھ کر مریض کو پلانا شروع کر دیںتو اُسکے مردہ ہوتے اعضاء دوبارہ زندگی کی طرف مائل ہو جائیں گے۔ کسی کو اگر دین اور دین پر چلنا پسند نہیں تو اس آیتکے پلانے سے اُسکی زندگی میں انقلاب آ جائے گا اور وہ رب القھار کی طرف مائل ہو جائے گا اور شیطانیت سے نفرت کرنےلگے گا۔ بری عادات میں ملوث لوگوں کو بھی کچھ عرصہ پابندی کے ساتھ یہ ایت پلانی چاہیے، انھیں گناہوں سے نفرت ہو جائےگی۔ مریض کے اوپر اس آیت کا دم بہت بہتر رہتا ہے۔ کچھ لوگ اگر مریض کی صحت کے لیے روزانہ ۳۵۶ مرتبہ یہ آیت پڑھناشروع کر دیں تو سات دنوں کے اندر انشاالله بہتری و شفا کے اثرات رونما ہوتے ہیں۔ سات دن بعد فیصلہ کر کیا جائے کہ عملجاری رکھنا ہے یا چھوڑ دینا ہے۔ کینسر اور لاعلاج بیماریوں کے لیے یہ آیت بہترین ہے۔

سواقط فاتحہ یعنی فجشثظخز کے اعمال کے بعد کسی اور عمل کی ضرورت ہی نہیں رہتی کیونکہ مردے کو زندہ کرنے سے بڑیاور کیا طاقت ہو سکتی ہے۔ گو کہ یہ طاقت اسم الہی الحیُ میں بھی ہے لیکن یہاں ہمارا موضوع سواقط فاتحہ ہیں اور ویسےبھی کسی قرانی کلام میں ایک طاقت ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ طاقت قرآن میں کہیں اور نہیں۔ ان حروف سے جمیع حاجاتکے لیے اعمال بنائے جا سکتے ہیں جنکا ذکر میں کچھ عرصے تک کرونگا۔ میں چونکہ حروف سے تو محبت کرتا ہی ہوں لیکناسمائے الہی میرے نزدیک دنیا کی ہر شے سے بڑھ کر ہیں، سو سواقط فاتحہ سے منسوب اسمائے الہی یافردُ یاجبارُ یاشکورُیاثابتُ یاظہیرُ یاخبیرُ یازکیُ کا ایک عمل و شمع پیش کرونگا۔ ان سات اسمائے الہی کا سات مختلف عوالم سے تعلق ہے اور اسعمل میں سات مختلف قسم کے عالم کے موکلات حاضر ہوتے ہیں۔ ان اسمائے الہی کے ذاکر کو میدان عملیات میں ہرانا تقریباًناممکن ہے اور انکے ذاکر کے اوپر سحر و جادو کرنا تو اور بھی ناممکن ہے۔ جس بندے پر کبھی جادو جنات کے مسائل نہیںآئے وہ اگر ان اسمائے الہی کا ورد کرتا ہو تو کبھی مسائل آئیں گے ہی نہیں۔ اور جو بندہ جادو جنات میں گھرا ہو، وہ اگرمستقل مزاجی سے اسما و آیت کا ورد شروع و جاری رکھے تو سحر و جنات کے اپنے حالات پتلے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ بہتکم لوگ یہ جانتے ہیں کہ جنات، جنات پر بھی جادو کرتے ہیں اور جنات و شیاطین کے اوپر بھی عمل ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی جنآپکے اوپر جادو کرے تو آپکے پاس بھی یہ طاقت ہے کہ اپ اُس جن کے اوپر عمل کر سکیں۔ سواقط فاتحہ کا عامل سفلیمخلوقات کے اوپر عمل کر سکتا ہے۔

بہت سارے نادان میری اوپر والی بات سے ایک اور مطلب بھی نکالیں گے جسکا جواب میں نے سوچا کہ آج دے دوں۔ ایکصاحب، جنکا نام میں نہیں لے رہا، نے اذکار القھار والی پوسٹ پر یہ کمنٹ کیا:

محترم اظہر حسین صادق صاحب،، السلام علیکم

حضور نبی کریم پر جادو کے حوالے سے میرا تحقیقی اور وجدانی موقف یہ ہے کہ نبی کریم پرجادو ہونے کو تسلیم کرنا گویا آپکی ذات گرامی پر شیطان کی برتری تسلم کرنے کے برابر ہے کیوں کہ جادو اور سحر شیطانی افعال میں سے ہیں جبکہ بنیادیعقیدے کی بات یہ کہ ایک نبی پر شیطان یا شیطانی افعال یا شیطانی افکار غلبہ نہیں پا سکتے،، مجھے حیرت ہے کہ کسیشخص کا ایمان یہ کس طرح تسلیم کر لیتا ہے کہ حضور پر جادو کیا گیا؟؟ محترم اظہر حسین صادق ق صاحب،، آپ تو ڈنکےکی چوٹ پر یہ کہتے ہیں کہ کوئی جادوگر اپ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا تو کیا اللہ کا نبی اور ساری کائنات کا آقا اورظاہری اور باطنی دنیا میں ہر چیز کے حکمران پر جادو کا اثر کرنا سمجھ میں آتا ہے ؟؟ تو کیا اس سے ہم یہ سمجھیں کہسارے نبیوں کا سردار اظہر حسین صادق سے بھی کمزور ہے کہ ان پہ جادو ہو گیا؟؟

یہ میسج خاصہ لمبا تھا جسمیں ایک آیت کا غلط مفہوم بھی پیش کیا گیا تھا جسے صاحب پیج اذکار القھار نے اڑا کر رکھ دیالیکن کمنٹ کا جو حصہ میرے ساتھ متعلق تھا وہ میں نے یہاں شئیر کر دیا۔

یہ کمنٹ میں نے ایک مفتی صاحب کو دکھایا تو وہ ہنس پڑے اور کہا کہ بچگانہ کمنٹ ہے، بچہ جذباتی ہو گیا ہے، جانے دو۔اگر اس کمنٹ کا مطالعہ کیا جائے تو رسول الله محمد کریم پر جادو ہوا کہ نہیں جو کہ ایک الگ بحث ہے اور اسپر کئیمضامین لکھے جا چکے ہیں، لیکن محمد کریم پر موجود جادو نہ ہونے یا نہ ہو سکنے کی دلیل میں مجھے شامل کرنا اس باتکی نشاندھی ہے کہ صاحب کمنٹ نہ صرف بچگانہ ذہنیت کے حامل ہیں بلکہ علمیت میں بھی کوئی خاطر خواہ مقام نہیںرکھتے ورنہ ایسی بونگی نہ مارتے اور میرے مطلق تو کچھ بھی نہیں جانتے اور نہ ہی کبھی میرا کوئی مضمون پڑھا ہے۔ اگرکبھی میرا کوئی مضمون دھیان سے پڑھا ہو تو دو تین جگہوں پر میں نے خود بتایا کہ مجھ پر جادو چلا اور حملہ ہوا۔ ایکمرتبہ ایک بندے کا علاج کرتے ہوئے اور ایک مرتبہ تجکیات کے جعلی پیروں کے کہنے پر جب میں سب ذکر اذکار چھوڙ کر بیٹھگیا تھا تو ایک رات مجھے اٹھا کر کسی نے چارپائی سے نیچے دے مارا۔ ایک پوسٹ کا سکرین شاٹ ثبوت کے طور پر ساتھبھی لگا رہا ہوں۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ میرا دعوی بھی ہے کہ مجھ پر جادو چلانا آسان نہیں بلکہ تقریباً ناممکن ہے لیکن ایساکیوں ہے، اسپر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم بحث برائے بحث کرنے کے لیے صاحب کمنٹ کی یہ بات مان لیں کہجادوگر اظہر حسین صادق کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا، جو کہ واقعی نہیں کر سکتا، تو اس سے میں یعنی اظہر حسینصادق رسول الله محمد کریم سے بہتر کیسے ہو گیا؟ یعنی اظہر حسین صادق کے ایک دعوے کو لے کر اُسکو خاتم النبیین کےاوپر جادو ہونے یا نہ ہونے کے ساتھ جوڑنا کہاں کی علمیت ہے؟ جبکہ درحقیقت جذباتیت اور بونگیت ہے اور جبکہ حقیقت یہ ہےاظہر حسین صادق کو اگر جادوگر سات جنم بھی کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں تو اظہر حسین صادق کا مرتبہ و مقام پھربھی رسول الله محمد کریم کی جوتی کے برابر بھی نہیں ہو سکتا۔

دوسری بات یہ کہ ہاں میرا دعوی ہے جادوگر میرا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا۔ تو رسول الله محمد کریم کا جادوگر نے کیا کر لیاتھا جو میں نبی سے بہتر ہو گیا؟ تھوڑی سی وقتی پریشانی جسکا اثر صرف رسول اللۂ محمد کریم کی ذات تک ہوا تھا اورمنصب نبوت پر شائبہ بھی نہیں پڑا جو کہ ثابت شدہ بات ہے، اس سے زیادہ اُس جادوگر نے کیا کر لیا؟ رسول الله محمد کریمپر کئی جسمانی پریشانیاں آئیں مثلاً احد کے موقع پر داندان مبارک کا شہید ہونا، تو اُس سے کیا فرق پڑا منصب نبوت کو؟ ایکموقع پر رسول الله محمد کریم کو بچھو کا کاٹ جانا، تو اُس سے شان نبوت پر کیا اثر پڑا؟ اگر صاحب کمنٹ کی سو کالڈ علمیدلیل کو صحیح مان لیا جائے تو پھر تو اظہر حسین صادق کو نہ تو آج تک بچھو کاٹا اور نہ ہی کسی لڑائی میں، یہاں تک کہایک مرتبہ سات بندوں کے ساتھ گھونسے چلے، اظہر حسین صادق کے دانت ٹوٹے۔ تو کیا اظہر حسین صادق پھر ان معاملاتمیں بھی رسول الله محمد کریم سے بہتر ہوا؟ معاذ الله معاذالله معاذ الله۔

تیسری بات، اگر رسول الله محمد کریم کی شریعت پر چلتے ہوئے اور کلام الہی کے ورد سے، مثلاً فلق و ناس سے، اگر کسیبھی بندے بشمول اظہر حسین صادق پر ساری عمر جادو اثر نہ کرے تو کیا ہم ایسے بندے کو رسول الله محمد کریم سے بہترتصور کریں گے؟ یا پھر اسکو شریعت و کلام الہی کی برکات سمجھیں گے؟ اگر کوئی بھی ایسی مصیبت جو رسول الله محمدکریم پر تو آئی لیکن انکے کسی امتی پر نہیں آئی، کیا اُس امتی کو محمد کریم سے ممتاز کر دے گی؟ سو یہ دلیل کہ محمدکریم پر جادو کا اثر ہوا اور اظہر حسین صادق کا تو آج تک کوئی جادوگر بال بھی بیکا نہیں کر سکا، اظہر کو ممتاز کرے گامحمد کریم صل الله علیہ وسلم سے، بلاشبہ ایک بیہودہ اور بونگی دلیل ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کوئی بھی امتی بشمول میرےاگر شریعت پر چلے اور کلام الہی کا ورد رکھے تو بال بھی بیکا نہیں کر سکتا کوئی جادوگر جس طرح محمد کریم کا بھی نہیںکر سکا۔ چھوٹے موٹے اثرات زندگی میں آتے رہتے ہیں اور قرآن و حدیث گواہ ہیں کہ نبیوں پر جادو کا اثر ہوا لیکن وہ اثر کوئیبال نہ بیکا کر سکا کسی کا بھی۔ سو کسی بھی موضوع پر دلائل دینے سے پہلے اپنے دلائل کو پرکھ لینا چاہیے اور جذباتی ہوکر بونگیاں نہیں مارنی چاہییں۔ چند طلاسم لکھ لینے اور طرائق جان لینے سے بندہ صاحب علم نہیں ہو جاتا بلکہ اسکو قرآن وحدیث کی کتنی سمجھ ہے اور آیات کی تشریح وہ کیسے کرتا ہے، وہ اصل چیزیں ہیں جو کسی کو بھی صاحب علم کا درجہدیتی ہیں۔ امامان حدیث کی نفی کرنا اور قرآن کی آیات کو غلط پس منظر میں پیش کرنا درحقیقت ایک قبیح دینی جرم ہے جسسے رجوع کر لینا چاہیے اور علم حقیقی حاصل کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

سو کسی شبے کے بغیر آپ لوگ بھی یہ یقین رکھ لیجیے کہ آپ لوگ محمد کریم کے امتی ہیں اور انکی شریعت پر چلتے ہوئےاور کلام الہی کے ورد کی برکات سے آپ لوگوں کا ایک افضل مقام ہے اور چند جادوگر یا شیاطین جنات آپکا کچھ نہیں بگاڑسکتے۔ وقتی طور پر تکلیف و پریشانی میں مبتلا کر دینا کوئی بڑی بات نہیں۔ صحابہ رضی الله جنات کو دیواروں سے باندھدیتے تھے اور اج کے عاملین ہمیں یہ درس دیتے نظر آتے ہیں کہ کسی بیمار بندے پر دم نہ کرنا چاہیے ورنہ وہ بیماری انکو بھیچمٹ سکتی ہے اور عوام ہے کہ ماشالله سبحان الله کے کمنٹس کی لائن۔ پتہ نہیں محمد کریم کا امتی اتنا پَھٹو کب سے ہو گیا؟میں آیت الکرسی پڑھ رہا تھا کہ میرا بائک میرے نیچے سے نکل گیا اور میری سڑک پر قلابازیاں لگ گئیں۔ گوڈے سارے چھلےگئے۔ اٹھتے ہی بے اختیار میں نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا کہ اے الله یہ زیادتی ہے میں آیت الکرسی پڑھ رہا تھا۔ کہامذاق میں ہی لیکن کہا ضرور۔ چند دن تکلیف رہی بعد میں زخم ٹھیک ہو گئے۔ ٹیٹنس کا ٹیکا بھی نہ لگوایا۔ ایک دن ایک جاننےوالے کا بائک پر ہی ایکسیڈنٹ ہوا اور اب گوڈے کی سرجری کروا کر بستر پر پڑا ہے۔ یہی چوٹ مجھے بھی لگ سکتی تھی۔ سواب میں کیا عقیدہ رکھوں کہ آیت الکرسی پڑھنے کے باوجود میرا ایکسیڌنٹ ہوا؟ یا یہ عقیدہ رکھوں کہ ٹھیک ہے، ہوا ایکسیڈنٹلیکن کیا بگاڑ لیا اُس نے میرا؟ میں تو اگلے دن جم میں وزن اٹھا رہا تھا اور میری آیت الکرسی نے مجھے بلا شبہ بچا لیا؟ سوکسی جادوگر کا جادو میرے اوپر چل گیا، بِگ ڈیل، چلو وہ خوش ہو گیا۔ بچوں کو تھوڑا خوش ہو لینے دینا چاہیے کیا حرج ہے؟اسی طرح یہودی بھی محمد کریم پر جادو چلا کر خوش ہو گئے تھے۔ بِگ ڈیل۔ آخر کیا چاہتے ہیں آپ لوگ؟ ان جادوگروں کوجینے کا کوئی حق نہیں؟ مر جائیں سارے کے سارے؟ انکا کوئی ارمان پورا نہ ہو؟ خوشیاں صرف آپکو ہی ملیں؟

خیر بات ہو رہی تھی سواقط فاتحہ یعنی فجشثظخز کی۔ ان سے منسوب آیت تو اوپر بیان ہو گئی ہے، ان سے منسوب اسماالہی یہ ہیں۔

یَا فَرࣿدُ، یَا جَبَّارُ، یَا شَکُوࣿرُ، یَا ثَابِتُ، یَا ظَھِیࣿرُ، یَا خَبیِرُ، یَا زَکِیُّ۔

جو بھی بندہ انکا ذکر شروع کرتا ہے وہ انمیں سے کسی ایک اسما یا چند اسما کے ورد کے دوران کچھ خصوصی کیفیات سےگزرتا ہے۔ یہ اسم یا اسما اُسکے اسم اعظم کہلاتے ہیں۔ جس طرح جبارُ کے ورد کے دوران پچھلے دنوں کچھ لوگوں نے کچھخاص محسوسات بیان کی تھیں اور میں نے انکو بتایا تھا کہ انکا اسم اعظم جبارُ ہے۔ اسی طرح آگے بھی مختلف اوقات میںمیں ایک ایک اسم الہی کا ورد کروانگا اور جسکا جو جو اسم الہی اسم اعظم ہوا وہ بھی بتاؤنگا۔ اگر اوپر بتائے گئے اسماالہی کے ورد کے دوران ایک یا دو اسم الہی کے ورد کرتے ہوئے آپکو کچھ محسوس ہو اور باقیوں کے دوران کچھ محسوس نہ ہو،تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ باقی کسی کام کے نہیں۔ جسکے ورد کے دوران کچھ محسوسات ہوئیں وہ بھی فائدہ مند ہے اورجسکے ورد کے دوران کچھ محسوس نہ ہوا اُسکی بھی الگ آفادیت ہے۔ ویسے بھی ساتوں اسما الہی کے الگ جہان ہیں۔ کسیایک کا ورد آپکو ساتوں جہانوں کی سیر نہیں کروا سکتا۔ اسی لیے ساتوں کا ورد ضروری ہے۔

اذکار القھار پیج پر ہر اسم الہی کا مخصوص دن اور صدقے کا تفصیل سے بیان ہوا ہے اور روزانہ پڑھنے کی تعداد کا بھی۔چونکہ ہر اسم ہفتے کے ایک دن سے متعلق ہے اسی لیے اُس دن اُس مخصوص اسم کا ورد مخصوص تعداد میں صبح کرناچاہیے یا سارا دن کھلا ورد بھی رکھ سکتے ہیں۔ یہ سب سے آسان طریقہ ہے سواقط فاتحہ کی روحانیت کو اپنے ساتھ مانوسکرنے کا، بغیر کسی زکوۃ کے تردد کے۔ یہ ورد و صدقات جو اذکار القھار پیج پر بتائے گئے ہیں، اگر کوئی بندہ اپنا معمول بنالے تو بہت سارے مسائل ویسے ہی حل ہو جائیں گے۔ یہ سات مضامین پیج اذکار القھار پر پڑھ لیجیے گا۔ میرا آج کا موضوع وعمل فرق ہے۔

اگر کسی اسلامی مہینے کی نو تاریخ سے سات دن کا سواقط فاتحہ کا عمل ہر اسلامی مہینے کر لیا جائے یعنی چاند کی نوتاریخ سے شروع اور پندرہ تاریخ کو ختم، تو یہ عمل نہ صرف یہ کہ آپکو بے پناہ روحانی قوت دے گا بلکہ گھروں کے بہتسارے مسائل بھی حل کرے گا۔ چاند کی آٹھویں اور نویں کی درمیانی رات نویں رات تصور ہو گی۔ ویسے یہ عمل چاند کیپہلی سے بھی پندرہ تاریخ تک کیا جا سکتا ہے۔ کوشش کی جائے کہ عمل رات کو کیا جائے کیونکہ میرا اجکا عمل، اسکی تعداداور شمع چاند سے متعلق ہے سو رات کو کرنے سے فائدہ زیادہ ہو گا۔ اگر کوئی دن کو کرنا چاہے تو اُسکی تعداد و شمع اور ہوگی، جو اس مضمون میں نہیں ہو گی اور نہ ہی ابھی میں دونگا۔ سو رات کے عمل پر فوکس کیجیے۔ یا اذکار القھار پیج پر بتایاہوا صبح کا طریقہ جاری کر کے اپنے معمولات میں شامل کر لیجیے۔

میرا عمل کچھ یوں ہے کہ چاند کی پہلی یا چاند کی نو سے ہر روز تمام اسمائے الہی کو  ۳۱۳ مرتبہ پڑھنا ہے الگ الگ۔ شمعکے اعداد شمع پر کسی نوک دار چیز سے کنندہ کے علاوہ سبز رنگ یا کسی بھی رنگ کے پین یا مارکر سے اپنے بائیں بازو پربھی لکھنے ہیں۔ عمل کے دوران کسی قسم کا خوشبو یا عطر نہیں لگانا۔ عمل کی اپنی خوشبو محسوس کرنے کے لیے ضروریہے کہ کوئی اور خوشبو استعمال نہ ہو۔ ہر اسم کے ورد کے دوران اپنی جسمانی کیفیات خوب غور سے نوٹ کرنی ہیں اور پھروہ میرے ساتھ شئیر کر لیجیے گا۔ اسی طرح ساتوں دن یا چودہ دن اپنی محسوسات خوب غور سے نوٹ کیجیے گا۔ عمل کا وردکچھ یوں ہے کہ پہلے سات مرتبہ مندرجہ بالا آیت پڑھیے گا اور پھر پہلے اسم الہی یَافردُ کو  ۳۱۳ مرتبہ پڑھا اور اُسکے بعدایک مرتبہ تصویر والی دعا۔ پھر  دوسرا اسم الہی ۳۱۳ مرتبہ اور پھر تصویر والی دعا ایک مرتبہ۔ اسی طرح ساتوں اسما کوباری باری ۳۱۳ مرتبہ پڑھنا ہے اور ہر اسم کے آخیر میں ایک مرتبہ دعا۔ آخر میں پھر سات مرتبہ آیت پڑھ کر سات مرتبہ اللھمآمین کہنا ہے۔ عمل مکمل۔ اگر اس عمل میں اپ تعداد بڑھانا چاہیں تو آیت کو اوّل ستر مرتبہ اور آخر میں سات مرتبہ کر لیجیےگا۔ جب آپ لوگ سات دن یا چودہ دن کا عمل کر لیں تو پھر ہر پیر کو، یعنی اتوار اور پیر کی درمیانی رات، عمل ۳۱۳ کی تعدادمیں اوّل و آخر آیت سات سات مرتبہ یا پھر ستر اور سات مرتبہ دھرایا جا سکتا ہے۔ اور یہ پیر والی روٹین تاحیات رکھی جاسکتی ہے۔

اس عمل کے بعد آپ اس آیت کو ایک دم کی حیثیت سے بھی استعمال کر سکتے ہیں، ہر بیماری میں یہ دم کام دے گا۔ یہ عملگھر بھر کی مشکلات و مسائل کے لیے ہے۔ پڑھے گا ایک بندہ اور اثرات سب گھر والوں پر ظاہر ہونگے۔ ذاکر کے علاوہ اسکےگھر والے بھی حسد و نظر بد سے محفوظ رہیں گے۔ جن گھروں پر جادو جنات کے حملے ریگولر ہوتے ہیں وہ اس عمل سےریگولر دوستی کر لیں۔ میاں بیوی کے درمیان جدائی کے عملیات و جھگڑے سب اس عمل کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ سمپلالفاظ میں بات یہ ہے کہ اس عمل کے کرنے سے گھر میں خیر بڑھ جائے گی اور شر کم ہو جائے گا۔ یہ عمل آیت الکرسی کیطرح ایک بہت بڑا حصار ہے۔ سات دن یا چودہ دن کے بعد اگر کوئی عمل جاری رکھنا چاہے تو بس ستر مرتبہ ہر اسم پڑھ کراسکے بعد دعا ایک مرتبہ پڑھ لیا کرے، شمع کے ساتھ۔ اگر اتنی بھی ہمت نہ ہو تو بس شمع جلا کر بس سات مرتبہ دعا ہیپڑھ لے۔ مداومت کے طور پر بھی یہ دعا سات مرتبہ روزانہ پڑھی جا سکتی ہے۔ اذکار القھار پیچ پر بتائے گئے طریقے کےمطابق بھی اگر اسمائے الہی کا ورد کریں صبح کے وقت تو اُس ورد کے بعد بھی تین مرتبہ دعا پڑھی جا سکتی ہے۔

شمع کے اعداد یہ ہیں۔ یہی اعداد بازو پر بھی لکھے جائیں گے۔ یہ ۳۱۳ کی شمع ہے۔ 

اعداد کے نیچے جو مه لکھا ہوا ہے یہ بھی بازو پر اور شمع پر لکھنا ہے  اعداد لکھنے کے بعد  

۸٦١٢٦۵۰۷۲۸۰۰۰

              مه

آپکو اکثر سو کالڈ دانشور یہ کہتے نظر آئیں گے کہ دنیاوی ضروریات میں قرآن و اسما کے ورد سے ثواب حاصل نہیں ہوتا۔ویسے تو یہ مکمل جاہلیت پر مبنی بات ہے لیکن آج ایک اور دلیل بھی آپکے پیش خدمت ہے۔ ثواب حاصل نہیں ہوتا کے جاہلانہعقیدے کو ایک منٹ کے لیے تسلیم کرتے ہوئے آئیے ان آحادیث کو دیکھیے۔

صحابئ رسول حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْه سے روایت ہے ، صاحِبِ قرآن ، محبوبِ قھار صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ آلِهٖ وَ سَلَّم نے فرمایا : قرآنِ کریم روزِ قیامت تشریف لائے گا اور تِلاوت کرنے والے کی سفارش کرتے ہوئے اللہ پاک کی بارگاہ میں کہے گا : اے رَبِّ کریم! اسے زینت عطا فرما۔ چنانچہ تلاوت کرنے والے کو کرامت کا تاج پہنا دیا جائے گا۔ قرآنِ کریم کہے گا : یَا رَبّ زِدْہُ اِلٰہی! اِضَافہفرما۔ چنانچہ تِلاوت کرنے والے کو کرامت کا لباس پہنا دیا جائے گا ، قرآنِ کریم کہے گا : یَارَبِّ  اِرْضِ عَنْہُ اے رَبِّ کریم! اس بندےسے راضِی ہو جا۔ اللہ پاک اُس سے راضی ہو جائے گا اور حکم ہو گا : اے بندے قرآنِ کریم پڑھتا جا ، جنّت کے درجات چڑھتاجا۔

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صاحب قرآن سے کہا جائے گا: پڑھتے جاؤ اور چڑھتے جاؤ اور عمدگی کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھو جیسا کہ تم دنیا میں عمدگی سے پڑھتے تھے، تمہاریمنزل وہاں ہے، جہاں تم آخری آیت پڑھ کر قرآت ختم کرو گے

[سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1464]

حضرت ابوسعید خدری رضی عنہ کہتے ہیں رسول صلی علیہ نے فرمایاحافظ قرآن جب جنت میں داخل ہوگا تو اسےکہا جائے گا قرآن کا تلاوت کرتا جا اور درجے چڑھتا جا چنانچہ وہ ہر آیت کے بدلہ میں ایک درجہ بلند ہوتا جائے گا حتی کہآخری آیت تک پہنچ جائے گا جو اسے یاد ہوگی اور وہی اس کا (مستقل) درجہ ہوگا.”

( ابن ماجہ ، حدیث صحیح 2037/2 )

ایک ہوتا ہے حافظ قرآن جو باقاعدہ قرآن حفظ کرتا ہے اور ایک ہوتا ہے میرے اور آپکے جیسا جسکو کچھ قرآن یاد ہوتا ہے۔مندرجہ بالا احادیث ہم سب کے لیے ہیں۔ سورہ مزمل کے عملیات کرنے سے ہزاروں لوگوں کو مزمل یاد ہوئی۔ یہ لوگ جب الله کےسامنے حاضری دیں گے تو دنیا میں جس مقصد کے لیے بھی مزمل پڑھی، آخرت میں مندرجہ بالا احادیث کے عین مطابق سورہمزمل پڑھتے ہوئے کم از کم جنت کے بیس درجات چڑھیں گے اور ایک عام آدمی کی نسبت کم از کم جنت میں بیس درجات اوپرہونگے کیونکہ مزمل کی بیس آیات ہیں۔ سو دنیا میں ثواب حاصل ہو نہ ہو، آخرت میں اسکا سورہ مزمل یاد کرنا اسکو کم از کمبیس درجات کا فائدہ دے گا۔ اسی طرح جب سواقط فاتحہ والی آیت اور آگے آنے والے مزید مضامین میں جو مزید آیات ان سےمتعلق لکھونگا، وہ عمل کے دوران آپکو یاد ہو جائیں گی تو روز محشر آپکے بڑے کام آئیں گی۔ اور جب آپ اس پوسٹ کے شروعمیں بتائی گئی آیت یاد کرینگے تو اسکے ترجمعہ کے عین مطابق یہ بھی ضرور سوچئے گا کہ اس دنیا میں اور روز محشر کیاوہ لوگ جنکے سینوں میں قرآن کی آیات پوشیدہ ہیں، اُن لوگوں کے برابر ہیں یا ہونگے جنکے سینے قرآن سے خالی ہیں یا ہونگے؟

صدق الله العلی العظیم

والله اعلی و اعلم۔

Please follow and like us:
fb-share-icon

3 thoughts on “سواقط فاتحہ قسط”

  1. جناب اظہر حسین صادق ق، اسلام علیکم! میں نے آج یہ عمل شروع کرلیا ہے انشا ءالله روٹین میں رہے گا ،آپ کی اجازت اور دھیان کی ضرورت ہمیشہ رہے گی ،فیس بک کی جھوٹی دنیا میں آپ جیسے سچے کھرے اور (کچھ کچھ کھردرے 😛) استاد کامل کا مل جانا بخت کی بلندی ہی ہے ،ذکر الہی کی رغبت ، دنیاوی زندگی کے بہت سے معاملات میں آپ کی پوسٹ سے قران کی ایات کا ترجمہ تفسیر اور مستند احادیث کے حوالے سے رہنمائی مل جاتی ہے ۔آسان اور فہم طریقے سے زبان پر ذکر جاری کروا دیا ہے آپ نے ، آپ کے عملیات نے روحانیت، روحانی دنیا کی سد بدھ سکھائی ہے۔ قرآن کی پڑھائی ذکر الہی میں خیر ہی خیر ہے ملائکہ کا ساتھ نصیب ہوتا ہے ،جنات رجعت ان فرسودہ خیالات کو راسخ کیا ہے ،آجکل کی عام روایت یہی تو ہے عاملین حضرات ہوں یا جدید علوم کے دعویدار اہل علم رجعت، بندش، جنات ،اثرات ان الفاط سے لوگوں کی ہوائیاں اڑاتے ہیں ،اپ کے شمع کے عملیات نے ان کی دکانداری بند کروا دی ہے ،شمع روشن کر کے ذکر الہی کرواتے ہیں کاٹ بھی گھر بیٹھے ہوگئی اور حاجت بھی پوری ہوگئی ہدیہ ،صدقہ (سالم بکرا ،دیگیں )کچھ بھی کیے بغیر 😂۔
    عوام کو شعور و آگاہی کی مہم پر ہیں آپ، اللہ القھار پر پختہ یقین اور ایمان، ذکر الہی میں خیر ہے ہر طرح کی کامیابی ہے اس طرف لارہے آپ
    آپ کی روح میں خان بستا ہے
    😊اور ہمارے دل میں آپ بستے ہیں
    سلامت رہیے اللہ آپ کا حامی وناصر ہو
    اللہ الواحد القھار سے دعا ہے آپ کے ذکر الہی کے بہترین ساتھیوں میں میرا بھی شمار ہو ۔میرا اعتقاد ہے انسان کا استاد ہی اس کو حبیب الہی کی بارگاہ تک رسائی کرواتا ہے
    اور رسول اللہ کی شفاعت سے ہی تو ہم بارگاہ رب القھار میں سرخرو ہوں گے انشاءاللہ تعالٰی

Leave a Comment