“درودُ الكوثرِ القَهَّار”
اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الْكَوْثَرِ،
وَبِحَقِّ قَوْلِكَ الْقَهَّارِ
﴿إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ﴾
ٱقْطَعْ أَثَرَ كُلِّ مَنْ عَادَانَا أَوْ ظَلَمَنَا، وَٱجْعَلْنَا فِي نُورِكَ الَّذِي لَا يَخْبُو، وَحِصْنِكَ الَّذِي لَا يُنقَضُ، وَرَحْمَتِكَ الَّتِي لَا تَنْقَطِعُ.
ترجمہ:
اے اللہ!
درود بھیج ہمارے سردار محمد ﷺ پر جو کوثر کے نبی ہیں،
اور اپنی غالب و غالب کرنے والی بات کے صدقے کہ
“بے شک آپ کا دشمن ہی بے نام و نشان ہے”
ہر اُس شخص کا اثر مٹا دے جو ہم سے دشمنی کرے یا ہم پر ظلم کرے،
اور ہمیں اپنے ایسے نور میں رکھ جو کبھی مدھم نہ ہو،
ایسے حصن میں جو کبھی ٹوٹ نہ سکے،
اور ایسی رحمت میں جو کبھی منقطع نہ ہو۔
یہ درود تین جہتوں میں کام کرتا ہے:
1. درودِ کوثر — خیرِ کثیر اور حضور ﷺ کی نسبت۔
2. آیتِ “إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ” — دشمن کے ابطال اور قہرِ الٰہی کی برکت۔
3. اسمِ قَهَّار + نور + رحمة — جلال و جمال کا کامل توازن۔
درود میں موجود آیتِ قہریہ
﴿إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ﴾
اور اسمِ جلال القَهَّار
ایک ساتھ آنے کی وجہ سے یہ درود باطنی و خارجی دشمنی کے ابطال میں خاص اثر رکھتا ہے۔
کچھ مزید فوائد یہ ہیں کہ حسد، ظلم یا دشمنی کے اثرات کو کٹانے کے لیے قوی درود ہے۔ سحر، نظر یا بددعا کے انعکاس میں مددگار۔ ناحق دشمنوں اور مخالفین کے منصوبوں کا زوال و سکوت۔انسان کے گرد ایک نورانی حصار (protective field) پیدا کرتا ہے۔
جیسا کہ الفاظ “فِي نُورِكَ الَّذِي لَا يَخْبُو، وَحِصْنِكَ الَّذِي لَا يُنقَضُ” سے ظاہر ہے۔
جو شخص اس درود کو خلوصِ نیت سے پڑھتا ہے، وہ نور، قہر، اور رحمت تینوں کے حصار میں آتا ہے۔
دشمنی اس سے ٹوٹتی ہے، ظلم اس سے دب جاتا ہے، اور دل میں نور و سکون اترتا ہے۔
اب آتے ہیں ایک ایسی دعا کی طرف جو مخصوص دشمن کے لیے بہت کارآمد ہے یعنی جسکا نام، والد کا نام معلوم ہو۔
دعا دشمن سورہ کوثر
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِحَقِّ قَوْلِكَ الْحَقِّ: ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ * فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ * إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ﴾،
يَا قَادِرُ يَا قَوِيُّ يَا قَهَّارُ يَا مُقْتَدِرُ، أَنْتَ الْقَوِيُّ الْقَائِمُ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ. اللَّهُمَّ أَسْأَلُكَ أَنْ تَقْهَرَ
فُلَانَ ابْنَ فُلَانَةَ، وَتَأْخُذَهُ أَخْذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ، إِنَّ أَخْذَكَ أَلِيمٌ شَدِيدٌ. فَمَا زَالَتْ دَعْوَاهُمْ حَتَّى
جَعَلْتَهُمْ حَصِيدًا خَامِدِينَ، وَمَزَّقْتَهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ، إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ، إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ
فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ، يُصْهَرُ مَا فِي بُطُونِهِمْ وَالْجُلُودِ، وَلَهُم مَّقَامِعُ مِنْ حَدِيدٍ
اردو ترجمہ
اے اللہ! میں تجھ سے تیرے اس سچے فرمان کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں:
“بے شک ہم نے آپ (ﷺ) کو کوثر عطا کیا۔ پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھیں اور قربانی کریں۔ بے شک آپ کا دشمن ہی بے نسل اور کٹا ہوا ہے۔”
اے قادر! اے قوی! اے قھار اے مقتدر! تو ہی وہ قوی ہے جو ہر جان پر اس کے اعمال کے مطابق قائم ہے۔
اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تُو فلاں بن فلاں کو مغلوب کر دے، اور اُسے ایسے پکڑ جیسے بستیوں کو ان کے ظلم کی حالت میں پکڑا گیا، بے شک تیرا پکڑنا سخت اور دردناک ہے۔
چنانچہ ان کی پکار باقی نہ رہی یہاں تک کہ تو نے انہیں کٹی ہوئی فصل اور بجھی ہوئی آگ کی مانند کر دیا، اور انہیں چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ بے شک تیرے رب کا عذاب واقع ہو کر رہنے والا ہے۔ اور بے شک تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے
“سو تیرے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا، ان کے پیٹوں اور کھالوں میں جو کچھ ہے وہ اس سے پگھلایا جائے گا، اور ان کے لیے لوہے کی گرزیں ہوں گی۔
دعا اور درود اور اُسکا ترجمہ آپ نے پڑھ لیا ہو گا۔ کہاں ملیں گی ایسی عظیم دعائیں و درود آپکو سوائے اس در کے؟ بہرحال میں علم کی ایک نئی شاخ شروع کرنے والا ہوں جسمیں میں عمل کے ورد سے وابستہ عدد کے اوپر بھی لکھونگا۔ آج تک کبھی کسی نے ایسا پہلے نہیں کیا۔ یہ کرنے والا بھی میں پہلا ہی ہوں گا۔ عدد کی یہ تفصیل نہ صرف میرے عمل سے وابستہ ہو گی بلکہ یہ عدد کی تشریح دوسرے عملیات میں بھی اور دنیاوی معاملات میں بھی کام ائے گی۔ اور میں اسپر اتنا لکھونگا کہ عقلیں حیران رہ جائیں گی۔ واللہ اعلی و اعلم۔
دشمنی و قہر کے ورد میں موزوں عدد کئی ہیں۔ لیکن سورہ کوثر کے حساب سے آج میں دس نمبر کی سیریز میں سے کچھ نمبر آپکے سامنے رکھونگا۔
دشمنی و قہر کے ورد میں زیادہ تر 37 (سینتیس) اور 73 (تہتر) اہم ہوتے ہے۔
37 (سینتیس): اس کا تعلق سختی، قہر اور ٹوٹ پھوٹ سے جُڑا ہوا ہے۔ دشمنی کے توڑ یا قہر کے ورد میں یہ مناسب ہے۔
73 (تہتر): یہ زیادہ شدید اور طاقتور عدد ہے۔ دشمن کے شر کو پلٹانے اور ظالم کے قہر کے سامنے ڈھال بننے کے لیے۔
۱۹ (انیس): سورۃ المدثر (74:30) میں آیا،
عَلَيْهَا تِسْعَةَ عَشَرَ
“اس پر انیس (فرشتے) مقرر ہیں۔”
یہاں انیس فرشتے جہنم پر سخت پہریدار کے طور پر بیان ہوئے، جو اللہ کے حکم کے تحت عدل و قہر کا نظام سنبھالتے ہیں۔
اس سے پتا چلتا ہے کہ ۱۹ کا تعلق نظام، نگرانی، حفاظت اور قہر سے ہے۔
روحانی طور پر ۱۹ اکثر کنٹرول اور نظم و ضبط کی علامت مانا جاتا ہے۔
عملیات میں یہ عدد دشمن کو قابو میں کرنے، ظالم کے شر کو روکنے یا کسی معاملے کو اللہ کے عدل کے سپرد کرنے کے لیے موزوں ہے۔ یعنی یہ عدد حفاظتی اور ضبطی اثر رکھتا ہے۔
۹۱ (اکانوے)
۹۱ اصل میں ۱۹ کا عکس یعنی الٹ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جو کیفیت ۱۹ میں “اندر سے قابو رکھنے” والی ہے، ۹۱ میں وہ “باہر کی دنیا پر اثر ڈالنے” والی بن جاتی ہے۔
روحانی طور پر ۹۱ دعاؤں کی قبولیت اور اثر کے ظہور سے جڑا ہے۔ جہاں ۱۹ “اندرونی قہر” ہے (یعنی ظالم کے نظام کو توڑنا یا اسے محدود کرنا)، وہاں ۹۱ “ظاہر قہر” ہے یعنی ظالم کے خلاف واضح نتیجہ ظاہر ہونا۔
دشمنی کے عملیات میں ۹۱ کا ورد زیادہ نتیجہ خیز اور اعلانیہ نتائج لاتا ہے۔
۱۹ اور ۹۱ کا باہمی تعلق
۱۹: نگرانی، کنٹرول، ضبط، دشمن کے شر کو قابو میں لانے والا۔
۹۱: اظہار، ظہور، نتیجہ، دشمن کے خلاف ظاہری فتح دینے والا۔
گویا ۱۹ ہے اندر کا قلعہ (اندرونی حصار) اور ۹۱ ہے باہر کی تلوار (ظاہری غلبہ)۔
سو عملیات کوثر میں استعمال کرنا ہو یا دیگر عملیات میں، اگر کسی کو مسلسل دشمنی یا وسوسے کا مسئلہ ہو تو ۱۹ کا ورد مؤثر ہے۔ اگر کسی کو کھلا ہوا حملہ یا مقابلہ درپیش ہو تو ۹۱ کا ورد زیادہ مناسب ہے۔
سو اب آپ کونسا عدد اپنے مقصد کے لحاظ سے موزوں سمجھیں، اُسکے مطابق اوپر دی گئی دعا کا ورد کریں اور فلاں ابن فلاں میں ظالم کا نام ابنِ باپ کا نام استعمال کیجیے۔ منگل کے دن عمل کو شروع کر سکتے ہیں۔ پہلے درود کو تین مرتبہ پڑھیے۔ پھر ظالم یا ظالمین کی تصویر سامنے رکھیں اور ایک سٹیل کا فٹہ (جو مارکیٹ سے عام مل جاتا ہے)۔ اور مقرر کردہ عدد کے مطابق دعا کا ورد کر کے اپنے فُٹے پر دم کر کے دس مرتبہ وہ فٹہ اُس تصویر پر ماریں۔ پھر تین مرتبہ پوسٹ والا درود پڑھ کر اللھم آمین کہہ دیجیے۔ ایسا دس دن کیجیے اور اُسکے بعد ختم دلائیے۔ پھر کچھ دن صبر کر کے دوبارہ دس دن کیجیے۔ آپ عمل صبح شام دھرا بھی سکتے ہیں۔ آپ ایسے بھی کر سکتے ہیں کہ فرض کریں آپ نے انیس عدد کا انتخاب کیا۔ تو انیس مرتبہ دعا پڑھ کر فٹے پر دم کر کے دس مرتبہ فٹا تصویر کو مارا۔ پھر انیس مرتبہ دعا کا ورد کر کے فٹے پر دم کر کے تصویر کو مارا۔ اور اپنی قوت و طاقت کے مطابق عمل کو جتنی بار چاہا ایک ہی نشست میں دھرا لیا۔ آپ ایسے بھی کر سکتے ہیں کہ مثلاً آپ نے ۸۱ کا عدد منتخب کیا تو ایک نشست میں رات کو ۸۱ مرتبہ دعا پڑھ کر فٹے پر دم کر کے دس مرتبہ فٹہ تصویر کو مارا۔ پھر دن میں انیس ہی کی تعداد کو دو تین بار دھرا لیا۔ یعنی نمازوں کے بعد انیس مرتبہ پڑھ لی دعا خالی یا پھر فٹے کے ساتھ ہی۔ بس باقی اپنی عقل استعمال کیجیے گا۔
اگر بہت سے ظالم ہوں تو دعا میں سب کے نام ایسے لیں،
تقھر فلاں ابن فلاں وَ فلاں ابن فلاں وَ ۔۔۔۔۔یعنی وَ کے ساتھ جتنے چاہیں نام لیں۔
اب فرض کیجیے کہ آپکو اپنے دشمن کا نام معلوم نہیں۔ تو آپ نے منگل یا ہفتے سے عمل شروع کر لینا ہے۔ اور مندرجہ بالا عددوں میں سے کسی کا انتخاب کر کے بس یہ ورد کر لینا ہے۔ دشمنوں و حاسدین سے ستائے ہوئے لوگوں کے لیے یہ ایک بیمثال ورد ہے۔ دس دن یا انیس دن، پھر روزمرہ مداومت کیجیے، پھر کچھ عرصے بعد دھرا لیجیے۔
اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الْكَوْثَرِ،
وَبِحَقِّ قَوْلِكَ الْقَهَّارِ
﴿إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ﴾
ٱقْطَعْ أَثَرَ كُلِّ مَنْ عَادَانَا أَوْ ظَلَمَنَا، وَٱجْعَلْنَا فِي نُورِكَ الَّذِي لَا يَخْبُو، وَحِصْنِكَ الَّذِي لَا يُنقَضُ، وَرَحْمَتِكَ الَّتِي لَا تَنْقَطِعُ.
اللَّهُمَّ يَا رَبَّ الْقَهَّارِ، يَا رَبَّ الْكَوْثَرِ، كَمَا أَبْتَرْتَ أَعْدَاءَ نَبِيِّكَ الْمُصْطَفَى ﷺ، فَاقْطَعْ عَنِّي كُلَّ ظُلْمٍ وَحَسَدٍ وَعَدَاوَةٍ وَسِحْرٍ وَسَاحِرٍ، وَٱجْعَلْنِي فِي نُورِكَ وَرَحْمَتِكَ وَحِصْنِكَ الَّذِي لَا يُنقَضُ وَلَا يُخْرَقُ.
ترجمہ:
اے اللہ!
درود بھیج ہمارے سردار محمد ﷺ پر جو کوثر کے نبی ہیں،
اور اپنی غالب و غالب کرنے والی بات کے صدقے کہ
“بے شک آپ کا دشمن ہی بے نام و نشان ہے”
ہر اُس شخص کا اثر مٹا دے جو ہم سے دشمنی کرے یا ہم پر ظلم کرے،
اور ہمیں اپنے ایسے نور میں رکھ جو کبھی مدھم نہ ہو،
ایسے حصن میں جو کبھی ٹوٹ نہ سکے،
اور ایسی رحمت میں جو کبھی منقطع نہ ہو۔
اے ربِّ قہار! اے ربِّ کوثر!
جس طرح تُو نے اپنے نبی مصطفیٰ ﷺ کے دشمنوں کو ابتر کیا،
اسی طرح مجھ سے ہر ظلم، حسد، عداوت، سحر اور جادوگر کو کاٹ دے،
اور مجھے اپنے نور، اپنی رحمت اور اپنے ایسے قلعہ میں رکھ جسے کوئی توڑ نہ سکے اور کوئی چیر نہ سکے۔
اگر آپ میں سے کوئی شمع روشن کرنا چاہے تو پچھلی پوسٹ میں شمع دے دی گئی تھی۔ سورہ کوثر کے ہر خیر یا دشمنی کے عمل میں وہ شمع استعمال ہو سکتی ہے۔
صدق اللہ العلی العظیم
واللہ اعلی و اعلم۔
