spiritual revelations

عمل جمیع حاجات (یاقھار یاجبار یارحیم یافتاح یارزاق

اعوذ بالله من الشیطن الرجیم

بسم الله المذل القھار لکل عدو و شیطان

کبھی کبھار حالات کچھ ایسے ہوتے ہیں کہ مشکلات کافی ہوتی ہیں، ایک ہی وقت میں جادو، بندشوں کے مسائل، روپے پیسےکے مسائل، دشمنی کے مسائل وغیرہ سب اکھٹے چل رہے ہوتے ہیں۔ ایسے موقع پر اگر سب کے لیے الگ الگ عمل شروع کیاجائے تو بیک وقت کئی عملیات و ورد شروع کرنے پڑیں اور ساتھ شمعات بھی کئی کئی روشن ہوں۔ جو لوگ میرے عملیات کوسمجھتے ہیں اور کر سکتے ہیں، اُنکے لیے تو کوئی مسلۂ نہیں، لیکن نئے لوگوں یا مکس فیملی سسٹم میں رہنے والے لوگوں کےلیے اتنے عملیات اور شمعات روشن کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ کبھی کبھار جب ان باکس بھی آپ کسی کے مسائل سنتے ہیں تو وہاتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ خود ہی سمجھ نہیں آتی کہ اس الله کے بندے/بندی کو کونسا عمل بتائیں۔

سو ایسے تمام لوگوں کے لیے یہ عمل دیا جا رہا ہے۔ اسما الحسنی اور قرآن مجید ہی وہ اعلی ترین سسٹم ہے جسکے ذریعے ہممختلف اسما الہی اور آیات، مختلف مقاصد کے مطابق، کو اکھٹے ترتیب دے کر اپنی جمیع حاجات و مشکلات کے لیے ایک ہیعمل بنا بھی سکتے ہیں اور اُسکا ورد کر کے نہ صرف یہ کہ حاجات میں ایک اعلی ترین وسیلہ رب القھار کی بارگاہ میں پیشکر سکتے ہیں بلکہ قرآن المجید اور اسما کی تلاوت سے ثواب کے ساتھ ساتھ جمیع خیر و برکات بھی حاصل کر سکتے ہیں۔قطع نظر ثواب کے ٹھیکداروں کی اس فضولیت و جہالت کے کہ قرآنی عملیات سے مقصد تو حل ہوتا ہے لیکن ثواب نہیں ملتا،میں آپکی خدمت میں ایک الله کا فرمان اور ایک محمد کریم کا فرمان پیش کرتا ہوں۔

اللہ تعالیٰ کا فرمانِ مبارک ہے:

وَللہ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بھَا وَ ذَرُوا الَّذِین یُلْحِدُوْنَ فی اَسْمَآئِہٖ، سَیُجْزَوْنَ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ (الاعراف:180)

اور اللہ تعالیٰ کے لئے اچھے نام ہیں، لہٰذا انہی کے ساتھ اسے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں کے بارےمیں کج روی کا شکار ہیں، جو کچھ وہ کرتے ہیں اس کا انہیں عنقریب بدلہ دیا جائے گا۔

اچھا اہل سنت و الجماعت میں ایک قسم بریلوی افراد کی ہے جنکو اگر بریلوی کہا جائے تو بہت برا مناتے ہیں اور لوگوں کوکہتے نظر آتے ہیں کہ ہم تو اہل سنت و الجماعت ہیں اور پھر اسی نقاب کے اندر لوگوں کو دھوکہ بھی دیتے ہیں۔ اصل میں یہوہ بریلوی ہیں جو بریلویت کے اندر منافقین کا ایک گروہ ہے۔ اصل بریلویت اور اعلی حضرت رحمته الله و رضی الله کی تعلیماتسے انکا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ یہ تمام کے تمام جعلی پیر اور عاملین یہی دو نمبر بریلوی ہوتے ہیں جنکے سامنے اگرکہا جائے کہ فلاں چیز قرآن و سنت کے مطابق منع ہے تو کہتے ہیں کہ کہاں لکھا ہے کہ منع ہے۔ ہمیں لکھا ہوا دکھاؤ۔ اور پھراس دلیل کی آڑ میں ہر طرح کی بدعات کو جائز کہتے اور مناتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے ہاں عید میلاد النبی اور نعت کی محافلمیں جو کچھ ہوتا ہے وہ اس طرز عمل کی مکمل مثال ہے۔

اب آتے ہیں اس خود ساختہ عقیدے کے اوپر کہ قرآن مجید و اسما کو اپنی دنیاوی حاجات میں پڑھنے سے ثواب نہیں ملتا۔ پہلےتو یہ بھی کہا جاتا تھا کہ قرآن و اسما کے دنیاوی حاجات میں پڑھنے سے اسکے موکلات غصے میں آ کر ذاکر کو طرح طرحکی پریشانیوں میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ جب اس عقیدے کا منہ توڑ جواب دیا گیا تو ایک نیا عقیدہ گھڑا گیا کہ جناب قرآن مجید واسما کی تلاوت سے حاجت تو پوری ہو جاتی ہے لیکن ثواب نہیں ملتا جیسے ثواب انکے آباواجداد کی میراث ہو جیسے ہرجھوٹے پیر و عامل کی ہوتی ہے۔ چلئے آج انہی منافقین کی دلیل انہی کے منہ پر مارتے ہیں کہ جناب بتائیے کہاں لکھا ہے قرآنو حدیث میں کہ قرآن و اسما کو دنیاوی حاجات میں پڑھنے سے ثواب نہیں ملتا۔ چودہ سو سال سے ایسی بکواس نہیں کی گئیتو اب کہاں سے آ گئی۔ مندرجہ بالا قرآنی آیت میں تو کھلم کھلا لکھا ہے کہ الله کو اُسکے اسما کے ذریعے پکارو اور کج رویکرنے والے لوگوں کو چھوڑ دو۔ یہاں کہاں یہ تخصیص کی گئی ہے کہ فلاں معاملے میں پکارنے سے ثواب ملے گا اور فلاںمعاملے میں پکارنے سے نہیں۔ بلکہ اس فرمان کے عین مطابق ثواب نہ ملنے کی رٹ لگانے والوں کا شمار انھی کج روا لوگوںمیں ہوتا ہے جو اسما و قرآن کے معاملے میں غلط و ٹیڑھی راہ پر چلتے ہیں اور لوگوں کو بھی چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاںآپ سب لوگوں سے بھی ایک سوال ہے کہ ایسی کج روی کرنے والے لوگوں کو تو چھوڑ دینے کا حکم ہے، آپ کتنے نفلوں کا ثوابکما رہے ہیں ان سو کالڈ اہل سنت کو فالو کر کے جو دن دوپہر شام قرآن و اسما میں کج روی کا شکار ہیں؟

آئیے اب محمد کریم کا فرمان دیکھتے ہیں۔

حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اﷲ تعالیٰکی کتاب سے ایک حرف پڑھا، اس کے لئے اس کے بدلہ میں ایک نیکی ہے اور یہ ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے۔ میں یہنہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔ (گویا صرف الم پڑھنے سے تیسنیکیاں مل جاتی ہیں)۔

اب یہ بتائیے کہاں لکھا ہے کہ دنیاوی حاجات کے لیے قرآن پڑھا تو ثواب نہ ملے گا۔ اگر خود عقل نہیں تو کسی مفتی کو یہحدیث دکھا کر پوچھ لیجیے کہ اگر دنیاوی حاجات میں قرآن پڑھ کر دعا کی تو کیا ثواب ملے گا کہ نہیں۔

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بندہء مومنقرآن مجید پڑھتا رہتا ہے اس کی مثال مالٹا کی طرح (عرب کے ایک) لذیذ پھل کی سی ہے جس کی خوشبو بھی اچھی اور مزہبھی خوب اور پاکیزہ ہوتا ہے۔ اور وہ بندہء مومن جو قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال خشک کھجور کی سی ہے جس میں خوشبوتو نہیں ہوتی البتہ ذائقہ شیریں ہوتا ہے۔ اور وہ منافق جو قرآن مجید پڑھتا ہے اس کی مثال ریحانہ (گلاب کے پھول) کی سیہے کہ اس کی خوشبو اچھی اور ذائقہ کڑوا ہوتا ہے۔ اور اس منافق کی مثال جو قرآن پاک کی تلاوت نہیں کرتا حنظلہ (تمہ) کیسی ہے کہ اس میں خوشبو بالکل نہیں ہوتی اور ذائقہ بھی کڑوا ہوتا ہے۔
ایک اور روایت میں منافق کی بجائے فاجر (یعنی بدکار) کے الفاظ ہیں۔

یعنی قرآن مجید تو وہ چیز ہے جو اگر کسی فاجر و منافق کی زندگی میں آ جائے تو قرآن کی برکات کسی نہ کسی طور مل ہیجاتی ہیں کجا یہ کہ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ فلاں معاملے میں قرآن پڑھنے سے ثواب ہی حاصل نہیں ہوتا۔ سو قرآن مجید واسما کی تلاوت کے بارے ان تمام جاہلانہ عقائد کو رد کرتے ہوئے آپ لوگوں کے لیے مندرجہ ذیل حدیث پیش خدمت ہے جسکااطلاق ہر معاملے میں اجر و ثواب پر ہو گا، چاہے اپ قرآن و اسما کی تلاوت صرف عبادت کی نیت سے کریں یا کسی دنیاویمقصد کے لیے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا روایت فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید کاماہر معزز و محترم فرشتوں اور معظم و مکرّم انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ہوگا اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہو لیکن اس میںاٹکتا ہو اور (پڑھنا) اس پر (کند ذہن یا موٹی زبان ہونے کی وجہ سے) مشکل ہو اس کے لئے بھی دوگنا اجر ہے۔

اس مندرجہ بالا حدیث میں ایک اور نکتے کی نشاندہی بھی ہے جسکی طرف میں پچھلے تین سال سے اشارہ کر رہا ہوں کہقرآن مجید کی تلاوت سیکھنے و سکھانے اور اسمیں روانی سے اور قرآن کے احکامات کو سمجھنے سے آپکا تعلق فرشتوں سےقائم ہو گا اور یہ تعلق نہ صرف روز محشر ہو گا بلکہ اس تعلق کی برکات دنیا میں بھی حاصل ہونگی۔

آخری بات جس کے بعد عمل کی طرف اتے ہیں وہ یہ کہ قرآن و اسما کے خلاف جو خود ساختہ عقائد کی ترویج و تزویج آجکلہو رہی ہے، خصوصی طور پر ان لوگوں کی طرف سے جو نہ عالم ہیں نہ مفتی ہیں اور نہ ہی عامل ہیں بلکہ خود ہی self proclaimed saints کا درجہ رکھتے ہیں، بلکہ انکی عالمیت صرف یہ ہے کہ تصویریں بنوا کر لوگوں کے کمروں میں ٹنگوا دیجائیں ، الله کا ورد چھڑوا کر الله کے اعداد چھیاسٹھ چھیاسٹھ 66 کے ورد پر زور دیا جائے اور جب ورد اعداد و تصویر دونوںکوئی کام نہ کریں تو اہل علم اہل علم کی رٹ لگاتے ہوئے شمع بنوا کر لوگوں سے جلوانی شروع کر دیں حالانکہ خود عملیات کےخلاف ہوں۔ کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا۔ جیسا استاد ویسے اُسکے شاگرد۔ استاد کے نقوش بھی جب کسی کام نہ آئے تو شمع کے عملیات شروع کروا دیے یہ الگ بات ہے وہاں بھی الله کی مار منہ پر پڑی۔ اِسی طرح اس کے شاگرد، جبانکے ہوائی تجربات کسی کے کسی کام نہ آئے اور عوام چھوڑ کر جانے لگی تو فیس بچانے کے لیے اہل علم اہل علم کا ناٹککرتے ہوئے شمع کے عملیات شروع کروا دیے۔ سارے کے سارے احساس کمتری کے مریض میرے حصے میں ہی آنے تھے۔ بہرحالایسے لوگوں کے گمراہ کن عقائد سے مسلمانوں کو بچانے کا کام صرف میرا نہیں ہے بلکہ تمام اہل علم کا ہے۔ سو وہ تماممولوی و مفتی و عامل حضرات جو میرے اس مضمون کو پڑھیں ان سے عرض ہے کہ اپنی اپنی بساط کے مطابق قرآن و مجیدکے متعلق ان گمراہ کن عقائد، کہ اسکے دنیاوی حاجات میں پڑھنے سے موکلات غصے میں آ کر رجعت کر دیتے ہیں یا یہ کہاسکی دنیاوی حاجات میں تلاوت سے ثواب حاصل نہیں ہوتا، کے خلاف میدان عمل میں آئیں اور زبان و قلم دونوں سے اس کےخلاف نبرد آزما ہوں۔ اگر خود نہیں کر سکتے تو مواد مجھے بھیج دیں، میں آپکے نام سے شائع کر دونگا، کیونکہ میں نے تو کمرکسی ہی ہوئی ہے کیونکہ میں عامل بعد میں اور مسلمان پہلے ہوں، دنیا کی ہر چیز بعد میں اور قرآن و اسما پہلے۔

جب کبھی بہت سی پریشانیاں ہوں اور سمجھ نہ آئے کہ کونسا عمل کرنا چاہیے تو یہ عمل کیجیے۔ شمع پر یہ اعداد لکھےجائیں

13683682660

یاد رہے کہ اعداد کسی نوک دار چیز سے آگ والے حصے سے لکھے جائیں اور اردو ہندسوں میں لکھے جائیں اور لکھنا ۱۳ سے شروع کیا جائے۔ اسکےبعد پاس بیٹھ کر یہ آیات قرآنی تلاوت کی جائیں۔

اِعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ وَاَنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞

ترجمہ:جان لو کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے اور یہ کہ اللہ بہت بخشنے والا ہےبےحد رحم فرمانے والا ہے۔

القرآنسورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر ۹۸

ذٰلِكَ فَضْلُ اللّـٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَآءُ ۚ وَاللّـٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِـيْمِ 

ترجمہ؛ یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ بڑا فضل کرنے والا ہے۔

القرآن ، سورہ الجمعہ آیت نمبر 4

دونوں آیات کو الگ الگ 106 مرتبہ تلاوت کر لیا جائے اس طرح کہ جب پہلی آیت کو  چھ مرتبہ تلاوت کیا جائے تو اُسکے بعد یہدعا/ عزیمت ایک مرتبہ پڑھیں۔

اَللّٰھُمَّ یا قَھَّارُ یا جَبَّارُ نَجِّنِیࣿ مِنَ الࣿقَوࣿمِ الظّٰلِمِیࣿنَ وَ یا رَحِیࣿمُ یا فَتَّاحُ یا رَزَّاقُ وَافࣿتَحࣿ لِیࣿ اَبࣿوَابَ رَحࣿمَتِکَ وَ فَضࣿلِکَ

وَ رِزࣿقِکَ

پھر ہر دس مرتبہ آیت کے بعد ایک مرتبہ یہ عزیمت پڑھ لیں۔ اسی طرح جب دوسری آیت کی تلاوت شروع کریں تو چھ مرتبہتلاوت کے بعد ایک بار عزیمت پڑھی جائے اور پھر ہر دس مرتبہ دوسری آیت کے ورد کے بعد ایک مرتبہ عزیمت پڑھی جائے۔

اب عمل ختم کر کے دعا کے طریقے کے مطابق اوّل و آخر درود کے بیچ میں یہی عزیمت سات مرتبہ ورد کی جائے اور اُسکے بعداردو میں جیسے چاہیں اپنے لیے دعا کریں اور آخر میں اللھم آمین کہہ کر منہ پر ہاتھ پھیر لیجیے۔ اس عمل کے دوران تلاوتآیات کے دوران ہر بار جب بھی عزیمت پڑھی جائے تو اپنے اوپر دم بھی کر لیں۔ اس عزیمت کا ترجمہ کچھ یوں ہے کہ

اے الله قھار الجبار ظالم قوم سے ہمیں نجات عطا فرما اور اے رحیم اے فتاح اے رزاق مجھ پر اپنی رحمت، فضل اور رزق کےدروازے کھول دے

اب اس عزیمت و دعا میں ظالم قوم سے مراد ظالم انسان و حیوان و جادوگر و جنات سب آ گئے ہیں اور عزیمت کے اگلے حصےمیں تمام بندشوں کا توڑ اور خیر کا حصول آ گیا ہے۔

جب بھی کوئی نیا عمل شروع کروایا جاتا ہے تو لوگوں کو دنوں کی بڑی فکر ہوتی ہے۔ مندرجہ بالا عمل میرے خیال کے مطابقانیس دن کیا جائے یا پچیس دن اور پھر ہر مہینے اسکو دس یا انیس دن یا پچیس دن کر لیا جائے۔ سالوں کے بگاڑ دنوں میںنہیں جاتے۔ اسلیے اس عمل کو پکڑ لیجیے گا اور پھر اسکو وقتا فوقتاً جاری رکھیے گا تاانکاں کہ اسکے پورے اثرات آپ مشاہدہکر سکیں۔ اس عمل میں اگر آپ آیات ایک سو چھ مرتبہ نہ پڑھ سکیں تو ستر ستر کے تعداد رکھ لیجیے گا۔ اس عمل کیمداومت یہ ہے کہ بس شمع بنا کر جلا دیں اور سات سات مرتبہ دونوں آیات پڑھ لیں اور سات سات مرتبہ ہی پوری عزیمت ہرآیت کے بعد۔ اس عمل میں شمع کا کلیدی کردار ہے اسلیے وہ ضرور جلائیں۔ مداومت کے دوران نہ جلا سکیں تو خیر ورنہاُسمیں بھی جلا لیں تو کمال ہو جائے۔ اگر دن میں کسی مرتبہ ستر ستر مرتبہ یہ دو تسبیحات کر لی جائیں، ثواب کی فکر کےبغیر، تو اور اچھا ہو جائے۔

یاقھار یاجبار۔ ستر مرتبہ

یارحیم یافتاح یارزاق۔ ستر مرتبہ

میری اس ویب سائٹ پر قرآن مجید بھی دیا گیا ہے، سو عمل سے پہلے ایک مرتبہ ان قرآنی آیات کی تلاوت ویب سائٹ ہر موجود قرآن پر سن لی جائے اور تلفظ ٹھیک کر لیا جائے۔ اس ویب سائٹ پر قرآن دینے کا مقصد ہی یہ ہے کہ اپ لوگوں کا قرآنی تلفظ بھی درست کروایا جا سکے۔

صدق الله العلی العظیم

والله اعلی و اعلم۔

Please follow and like us:
fb-share-icon

5 thoughts on “عمل جمیع حاجات (یاقھار یاجبار یارحیم یافتاح یارزاق”

  1. واہ سائیں واہ سید بادشاہ، اللّٰہ سائیں نانے سائیں حضرت محمد کریم علیہ الصلواۃ والتسلیم کاصدقہ دن دگنی اور رات چوگنی ترقی وبرکات عطا فرمائے اور حاسدین ومنافقین کو ہمیشہ ذلت ورسوائی سے ہم کنار کر ے۔۔۔۔ آمین۔ آمین۔ آمین یارب العامٹ

  2. ماشااللہ بھای اپ بہت محنت کر رہے ہیں ہمیں سدھارنے کی
    مطلب کہ اپ ایک استاد کئ طرع سب کچھ بتاتے ارو سمجھاتے ہیں یہ اسطرع پڑھو اور پورا ماشااللہ ہوم ورک کر کے دتے ہیں پھر بھی اگر ہم اپ کے بارے میں کچھ بولے ئا اپ کی بات پر یقین نہ اے یا غلطی ناکلنے لگ جاے تو ہم سے بڑا بےوقوف کوئ نیں کہ ہمارا استاد ہمارے لیے اتنی اسانی کرے ا ماشاآللہ بھای کیا بات ہے استاد جی

  3. اسلام علیکم بھای میں یہ عمل مدیحہ کے لیے کرنا چاہتی ہوں اسکا انٹرویو ہوگیا ہے الخمد اللہ اور کہا کہ اب کال کر کے بتایں گے کون سا عمل کروں اسلے کہ وہ کال کر لیں اور اسکو سلیٹ کر لیں انٹرویو تو بہت اچھا ہوا ہے پر ابھی وہ کال نیں کر رہے اپ بتادیں کہ کون سا عمل کروں

Leave a Comment