spiritual revelations

قرآن مجید اور حصول رزق

اعوذ بالله من الشیطن الرجیم

بسم الله المذل القھار لکل عدو و شیطان۔

بحثیںت مسلمان، اس دنیا میں ہماری لیے دو بہت بڑی نعمتیں ہیں قرآن و سنت۔ مسلمانوں نے ہر دور میں قرآن و سنت کیحفاظت کی ہے اور اس سلسلے میں اٹھنے والے تمام فتنوں کا ہمارے اسلاف نے مکمل و موثر جواب دیا ہے اور آج میری بھی یہکوشش ہے کہ جن بھی بکواس عقائد کی، قرآن و سنت کے حوالے سے فیس بک پر گھٹیا مائنڈ سائنسز کے علمبردار، ترویج واشاعت کر رہے ہیں اُسکا ایک موثر جواب دیا جائے اور عوام الناس کے ذہنوں سے قرآن کے بارے غلط فہمیاں دور کی جائیں۔اپنے پچھلے کئی مہینوں کے مضامین میں میں نے دلائل کے انبار لگائے ہیں ان بکواس و گھٹیا و بے سروپا عقائد کے خلاف کہقرآن مجید کو دنیاوی حاجات میں پڑھنے سے ثواب نہیں ملتا، قرآن مجید کو دنیاوی حاجات میں پڑھنے سے حاجت ویسے توپوری نہیں ہوتی لیکن اگر ہو بھی جائے تو اسکے موکلین غصہ میں آ کر آپکو مختلف قسم کی دنیاوی پریشانیوں میں مبتلا کردیتے ہیں، الله کے وقت مقررہ سے پہلے کوئی چیز حاصل کرنے پر کائنات میں سوراخ پیدا ہو جاتا ہے اور پھر یہ سوراخ آپکیزندگی میں کہیں اور ظاہر ہوتا ہے، گھنٹہ دو گھنٹہ قرآن و اسما کے ورد و عملیات کیوں کرنا جب حاجت ایک دس منٹ کے کوڈ یانقش سے پوری ہو جائے اور اس طرح کی اور بھی بہت سی بکواسیات جو آپ لوگ اکثر فیس بک پر پڑھتے ہیں یا پڑھ سکتےہیں۔ یاد رکھیے کہ مندرجہ بالا عقائد کا پرچار کرنے والے لوگ سوائے ان جاہلین اور شیاطین کے اور کچھ نہیں جو آپکے ذہنوںمیں قرآن کے خلاف شک و شبہات پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ بجائے قرآن پڑھنے کے اپ لوگ بکواس قسم کے دیگر اعمال مثلاًکوڈز پڑھنا، کاغذات پر حاجات کی تصویریں بنانا و لکھنا، جنتر منتر، کائنات کو لوو یو اینڈ لوو می کے پیغامات بھجوانا وغیرہمیں مشغول ہو جائیں۔

ایک چھوٹی سی بات یاد رکھیے گا کہ قرآن کو آپ صرف الله کی رضا کے لیے پڑھیں یا اپنی دنیاوی حاجات کے لیے یا دونوںکے لیے، آپکو بہرحال قرآن کا ثواب و برکات ہر حالت میں حاصل ہوں گی اور ان چیزوں کی سیر حاصل تشریح میں اپنے پچھلےمضامین میں کر چکا ہوں اور آئندہ بھی کرتا رہونگا۔ اپنی دنیاوی حاجات میں قرآن کی طرف متوجہ ہونا، دیگر تمام کوڈز اورلوو یو اینڈ لوو می والی بکواسیات کو چھوڑ کر، ایک اعلی چوائس ہے کہ اپ نے رب القھار کے کلام کو ترجیح دی اور رب القھارسے رب القھار کے ہی کلام سے مدد و نصرت و حاجت طلب کی (حدیث میں ایسے واقعات کی بھرمار ہے) اور آپکی یہ ترجیحاتہی درحقیقت آپکے ثواب کی ضامن ہیں۔ اب جو بندہ اسکے برعکس بولتا ہے وہ یا جاہل ہے یا اُسکا کوئی ایجنڈا ہے کہ آپکو قرآنسے دور کر کے آپکو کوڈز اور لوو یو اینڈ لوو می کے فضول کاموں میں لگایا جائے تاکہ جو تھوڑا بہت قرآن اپکی زندگیوں میںرہ ہی گیا ہے، اُس سے بھی اپ دور ہو جائیں اور آپکے ذہن میں پھر ہر طرح کی خرافات کو بھر کر ذہن سازی کی جائے مائنڈسائنسز اور کوڈز کے حق میں اور اپ پر تصرف قائم کیا جائے۔ جو شخص قرآن کے بارے ایسے بکواس عقائد رکھتا ہو، اسکوفالو کر کے اپ کتنا ثواب حاصل کر رہے ہیں یہ سوال ضرور پوچھیے گا اپنے آپ سے۔ یاد رکھیے گا گندگی کو اپنے لیے پسندکریں گے تو اسکے چھینٹے اپ پر ضرور پڑیں گے چاہے آپ کتنے ہی عقلمند اور چالاک کیوں نہ ہوں۔

ہم عام طور پر قرآن کریم کو چند مقاصد کے لیے پڑھتے ہیں جن کا تذکرہ اس وقت مناسب سمجھتا ہوں، مثلاً:

  1. قرآن کریم پڑھنے سے ہمارا ایک مقصد یہ ہوتا ہے کہ نماز ہم پر فرض ہے اور نماز میں قرآن کریم پڑھنا ضروری ہے اسلیے ہم تھوڑا بہت قرآن کریم یاد کرتے ہیں تاکہ نمازوں میں پڑھ سکیں اور ہماری نمازیں صحیح طور پر ادا ہو جائیں، ہرمسلمان چند سورتیں یاد کرنے کی ضرور کوشش کرتا ہے تاکہ وہ انہیں نمازوں میں پڑھ سکے۔ اس مسئلہ میں ایک پہلوکی طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ پانچ وقت کی نمازیں فرائض و واجبات اور مؤکدہ سنتیں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہوسلم کی سنت کے مطابق ادا ہو جائیں اس کے لیے کم از کم کتنا قرآن کریم یاد کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے؟ عامطور پر یہ ہوتا ہے کہ چند سورتیں یاد کر لی جاتی ہیں اور انہی کو بار بار ہر نماز اور ہر رکعت میں دہرایا جاتا ہے (مثلاًسورہ اخلاص)، اس سے نماز ہو تو جاتی ہے لیکن سنت کے مطابق نہیں ہوتی۔ جناب نبی اکرمؐ کی سنت مبارکہ یہ ہے کہمختلف نمازوں اور رکعتوں میں مختلف سورتیں پڑھی جائیں اور ایک ہی سورت کو بار بار نہ دہرایا جائے، اس کو سامنےرکھتے ہوئے میں نے یہ سوچا کہ اپنے عملیات میں قرآن کی سورہ و آیات کو ایک مقررہ تعداد میں مقررہ دنوں تک آپسے پڑھائی کرواوں (حالنکہ شمع کے اعمال میں عام طور پر ورد کی ضرورت نہیں ہوتی) تاکہ سورہ و آیات آپکو خودبخود یاد ہو جائیں۔ اب کچھ جاہل مائنڈ سائنسز کے علمبردار تو اسکو وقت کا ضیاع کہیں گے لیکن جب اپ لوگ بہتساری ان سورہ و آیات کو نماز کی رکعات میں پڑھیں گے تو سنت زندہ کرنے اور تلاوت کا کتنا ثواب کمائیں گے، اسکااندازہ خود لگا لیجیے۔ بہرحال ہمارا قرآن کریم پڑھنے سے ایک مقصد یہ ہوتا ہے کہ کچھ سورتیں یاد کر لیں تاکہ انہیںنمازوں میں پٖڑھ سکیں اور ہماری نمازیں صحیح طور پر ادا ہو جائیں۔ ایک خصوصی بات یہ بھی ذہن میں رکھیں کہجب یہ چول مائنڈ سائنسز کے علمبردار آپکو شمع کے عملیات یا دیگر کچھ کرواتے نظر آئیں تو آپکے ذہن میں پہلی باتتو یہ آنی چاہیے کہ خود تو یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے آج تک کوئی عمل نہیں کیا، کوئی زکوۃ ادا نہیں کی، کوئی شمع کاعمل نہیں کیا تو کس حیثیت میں آپکو عمل کرواتے ہیں؟ ایک بندہ جسنے ساری زندگی کرکٹ نہ کھیلی ہو، بیٹنگ نہ کیہو، وہ کسی ٹیسٹ یا ون ڈے کے بیٹسمین کو بیٹنگ سکھانے کا دعوی کرے یا اعلانیہ کہے کہ میں نے تو کبھی کرکٹنہیں کھیلی البتہ بیٹنگ بولنگ میں سکھاونگا تو اُسکو جاہل بڑوا نہیں کہیں گے تو اور کیا کہیں گے؟ اسی طرح جس بندےنے کبھی کسی اسم و آیت و سورہ کی زکوۃ ادا نہ کی ہو (بقول اُسکے خود ہی) تو وہ آپکو کسی اسم و سورہ و آیت کیزکوۃ کیسے ادا کرائے گا؟ جس نے خود کبھی کوئی شمع کا عمل نہ کیا ہو ( بقول اُسکے خود ہی) وہ آپکو شمع کا عملکیسے کرائے گا؟ جس نے کبھی کوئی ریاضت کی ہی نہیں (بقول اسکے خود ہی)، شمع جلائی ہی نہیں اُسکو ریاضت وشمع میں تصرف کیسے حاصل ہو گا؟ اور ایسے جاہل بڑوے کے پیچھے اپ عمل کرتے اور شمع جلاتے کیسے لگیں گے؟جاہلوں کے پیروکار بھی جاہل ہی ہوتے ہیں معذرت کے ساتھ۔ حالت یہ ہے کہ ایسے جاہل اہل علم لوگوں کی جادو کیتشخیص کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ تم پر جادو ہے لیکن اپنا پورا علاج کسی مقامی عامل سے کروائیے۔ میرا آپ سے یہسوال ہے کہ جو بندہ بس جادو کی تشخیص کرنے جوگا ہو اور آگے علاج سے بیچارہ عاجز ہو، وہ جادو جنات کےمعاملات میں آپکی رہنمائی کیسے کر سکتا ہے؟ جس نے آج تک جادو جنات کے معاملات ہینڈل ہی نہیں کیے بلکہ آگےریفر کیے ہیں وہ آپکو کہے کہ میں جادو جنات پر مضامین لکھونگا اور پھر آپکی تشخیص کر کے آپکو آگے روانہ کرونگا،کیا یہ کھلا مذاق نہیں اور یہاں جاہل کون کہلائے گا؟
  2. قرآن کریم پڑھنے اور سننے سے ہمارا دوسرا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ثواب حاصل کریں اور ہمیں زیادہ سے زیادہ اجر ملے،اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن کریم پڑھنے اور سننے سے اجر ملتا ہے، ثواب حاصل ہوتا ہے اور ہمارے کھاتے میںنیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ پڑھنے پر بھی ہر حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں اور سننے پر بھی ہر حرف پر دس نیکیاں حاصلہوتی ہیں۔ اور دس کا یہ عدد متعین نہیں ہے بلکہ یہ کم از کم کی حد ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے کہ’’من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا ومن جاء بالسیئۃ فلا یجزٰی الا مثلھا‘‘ (سورہ الانعام ۱۶۰) جس نے نیکی کا کوئیکام کیا اس کے لیے دس گناہ اجر ہے اور جس نے گناہ کا ارتکاب کیا اسے اس کے برابر بدلہ ملے گا۔ نیکی کے ہر کام پراللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اس کا اجر و ثواب دس گنا سے شروع ہوتا ہے یہ کم از کم کی حد ہے، ثواب میں زیادہ سےزیادہ کی کوئی حد نہیں ہے، وہ کام کرنے والے کے خلوص و توجہ اور اللہ تعالیٰ کی مہربانی پر موقوف ہے۔ یہ سینکڑوںمیں بھی ہو سکتا ہے، ہزاروں میں بھی ہو سکتا ہے اور لاکھوں کروڑوں اور اربوں میں بھی ہو سکتا ہے۔ کسی سطح پربھی کوئی اشکال نہیں ہے اس لیے کہ اشکال وہاں ہوتا ہے جہاں دینے والے کو کوئی بجٹ پرابلم ہو کہ اس مد میں اتنیرقم موجود بھی ہے یا نہیں، اللہ تعالیٰ کی کوئی بجٹ پرابلم نہیں ہے اس لیے اس نے کسی نیکی میں زیادہ سے زیادہاجر و ثواب کی کوئی حد مقرر نہیں کی۔
  3. تیسرے نمبر پر ہم قرآن کریم کی تلاوت برکت کے لیے کرتے ہیں۔ نیا مکان بنائیں، کاروبار شروع کریں، یا دفتر کھولیں توبرکت کے لیے قرآن کریم کی تلاوت کا اہتمام کرتے ہیں۔ ویسے بھی باذوق حضرات اپنے گھروں دکانوں، دفاتر، کھیتوں اورکاروباری مراکز میں قرآن کریم کی تلاوت اور ذکر و افکار کا معمول رکھتے ہیں اور قرآن کریم سے ہمیں یہ فائدہ بھیحاصل ہوتا ہے۔ یہ بات ہمارے ایمان کا حصہ ہے کہ جہاں قرآن کریم کی تلاوت ہوتی ہے وہاں رحمتوں اور برکتوں کا نزولہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے گھروں میں برکت و رحمت کا ماحول نہیں رہا کیونکہ قرآن کریم کی تلاوت نہیں ہوتی،نماز کا ماحول نہیں ہے، ذکر و اذکار کا معمول نہیں ہے اور درود شریف پڑھنے کا ذوق نہیں ہے۔ ہمیں اکثر شکایت رہتیہے کہ گھروں میں برکت نہیں رہی، باہمی اعتماد کی فضا نہیں رہی، کاروبار میں رکاوٹ رہتی ہے، رشتوں میں جوڑ نہیںہے اور بے سکونی کی فضا ہے۔ اس سلسلہ میں اس بات پر غور کر لیجئے کہ رحمتیں اور برکتیں لے کر فرشتے آتے ہیںاور اللہ تعالیٰ نے یہ کام عالم اسباب کے درجے میں انہی کے سپرد کر رکھا ہے، مگر ہمارے گھروں کا ماحول فرشتوں کیآمد و رفت کے لیے سازگار نہیں ہے۔ فرشتے وہاں آتے ہیں جہاں قرآن کریم کی تلاوت ہوتی ہے، جہاں نماز پڑھی جاتی ہے،ذکر و اذکار کا ماحول ہوتا ہے، درود شریف پڑھا جاتا ہے اور خیر کے اعمال ہوتے ہیں۔ جناب نبی اکرمؐ کا ارشاد گرامیہے کہ ’’البیت الذی لیس فیہ القرآن کالبیت الخرب‘‘ وہ گھر جس میں قرآن کریم کی تلاوت نہیں ہوتی وہ ویران گھر کیطرح ہے۔ دوسری حدیث میں جناب نبی اکرمؐ فرماتے ہیں کہ ’’صلوا فی بیوتکم ولا تجعلوھا قبورا‘‘ گھروں میں بھی نمازپڑھا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ۔ گویا گھروں کی آبادی نماز اور تلاوت قرآن کریم سے ہے، اور جن گھروں میں نمازاور تلاوت کا معمول نہیں ہے وہ آباد گھر نہیں ویران اور اجڑے ہوئے گھر اور قبرستان ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہمارے گھروں میںعام طور پر اس کا معمول نہیں رہا اس لیے فرشتوں کا آنا جانا بھی نہیں رہا۔ اب اندازہ لگائیں کہ جب اپ قرآن پڑھنےلگیں تو آپکے ذہن میں یہ بات آئے کہ جی کیا فائدہ اس سے ثواب تو حاصل ہونا کوئی نہیں کیونکہ کوئی نہ کوئی حاجتتو ہونی ہی ہے ذہن میں۔ جب آپ قرآن پڑھیں تو ذہن میں یہ خوف آئے کہ کہیں اسکے موکلین غصہ میں آ کر آپکو کسیدنیاوی پریشانی میں مبتلا نہ کر دیں۔ جب اپ قرآن پڑھنے لگیں تو آپکے ذہن میں یہ بات آئے کہ کیا فائدہ ڈھائی سپارےکی سورہ بقرہ پڑھنے کا جب کہ حاجت کسی نقش یا بکواس کوڈ سے دس منٹ میں پوری ہو جائے گی (اور یہ بات خودایک بہت بڑی بکواس ہے)۔ اب ان سوچوں کی موجودگی میں اپ لوگ کتنا قرآن پڑھیں گے، خود ہی فیصلہ و اندازہ لگالیجیے۔ ایسے بے دین لوگ جو قرآن مجید کے ثواب اور موکلات کے بارے آپکے ذہنوں میں مندرجہ بالا فضول بکواس صبحدوپہر شام ڈال رہے ہیں، کیا وہ آپکے رہنما اور رہبر ہونگے؟
  4. اس کے برعکس ہمارے گھروں میں جو کچھ ہوتا ہے اس پر بھی ایک غیبی مخلوق کی آمد و رفت رہتی ہے، جو فرشتےبہرحال نہیں ہیں بلکہ وہ مخلوق جن و شیاطین کی ہے۔ وہ آتے ہیں تو اپنے اثرات لے کر آتے ہیں اور اپنی نحوستیں چھوڑکر جاتے ہیں۔ شیاطین کی نحوستیں کس قسم کی ہوتی ہیں اس پر جناب نبی اکرمؐ کا ایک ارشاد گرامی سن لیجئے۔رسول اللہؐ نے فرمایا کہ شیاطین کا ایک پورا نظام ہے جو دنیا میں کام کر رہا ہے اور دنیا کے مختلف اطراف میں شیاطینکی بڑی تعداد ہر وقت کام کرتی ہے اور بڑے شیطان کو اس کی رپورٹ بھی پیش کرتی ہے، جو پانی پر تخت بچھائے ہوئےہے اور اپنے شیطانی نیٹ ورک کے کام کی نگرانی کرتا رہتا ہے۔ فرمایا کہ شیطان اپنے جس کارندے کو سب سے بڑیشاباش دیتا ہے اور اس کی پیٹھ تھپتھپاتا کر اسے سینے سے لگاتا ہے، اسے اس بات پر شاباش ملتی ہے کہ وہ کسیگھر میں جھگڑے کا ایسا ماحول پیدا کر دے کہ میاں بیوی میں طلاق ہو جائے، کسی گھر میں طلاق کا ہو جانا شیطانکے نزدیک اس کے کسی کارندے کا سب سے اچھا عمل ہوتا ہے جس پر وہ بہت خوش ہوتا ہے۔
    ظاہر ہے کہ ہمارے گھروں میں شیطانوں کی آمد و رفت ہو گی تو اسی طرح کی بے برکتی اور نحوست ہو گی اور اسیبے اتفاقی اور بے اعتمادی کا دور دورہ ہو گا۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ ہم اپنے گھروں میں شیاطین کی آمد و رفت کوروکیں اور فرشتوں کی آمد و رفت کا ماحول بنائیں جو قرآن کریم کی تلاوت اور نماز و ذکر کی کثرت سے بنے گا۔ ایکمثال سے بات سمجھ لیجئے کہ میرا گھر اگر صاف ستھرا ہے، غسل خانے اور نالیوں میں صفائی ہے، گھر کے صحنمیں کیاری موجود ہے جس میں پھول کھلے ہوئے ہیں، ظاہر ہے کہ اس ماحول میں بلبل آئے گی، تتلیاں آئیں گی، جگنو آئیںگے۔ لیکن اگر میرے گھر میں صفائی نہیں ہے، غسل خانہ اور نالیاں گندی ہیں اور کوڑا کرکٹ ہر طرف بکھرا ہوا ہے تومکھیاں بھنبھنائیں گی، مچھروں اور کاکروچوں کا ہر طرف بسیرا ہو گا، اس پر میں یہ کہنا شروع کر دوں کہ کسی نےکچھ کر دیا ہے اور سارے محلے کے کاکروچ اکٹھے کر کے میرے گھر میں بھیج دیے ہیں تو کس قدر عجیب بات ہو گی۔میرے گھر میں بلبل اور جگنو کا ماحول ہو گا تو وہ آئیں گے اور مچھروں اور مکھیوں والی فضا ہو گی تو وہ ڈیرہ ڈالیںگے، اس کے لیے کسی کو ملامت کرنے کی بجائے مجھے اپنے گھر کے ماحول کی صفائی کرنا ہو گی اور اسے بہتر بناناہو گا۔ اسی طرح میرے گھر میں اگر فرشتوں کی آمد و رفت ہو گی تو وہ آئیں گے اور رحمت و برکت لائیں گے اور اگر ہروقت شیاطین ڈیرہ ڈالے رہیں گے تو ان سے بے برکتی، نحوست اور نا اتفاقی ہی ملے گی اور وہی کچھ ہو گا جس کیہمیں اپنے گھروں میں اس وقت شکایت رہتی ہے۔
  5. ایک اور مقصد جس کے لیے ہم عام طور پر قرآن کریم پڑھتے ہیں شفا کا حصول ہے اور وہ بھی قرآن کریم کے ذریعےحاصل ہوتی ہے۔ قرآن کریم ہماری جسمانی بیماریوں کی شفا بھی ہے اور روحانی و اخلاقی بیماریوں کا بھی علاج ہے۔خود قرآن کریم نے اپنے آپ کو شفا کہا ہے اور فرمایا ہے کہ ’’قد جاءتکم موعظۃ من ربکم وشفاء لما فی الصدور‘‘ (سورہیونس ۵۷) تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی ہے اور وہ سینوں کی بیماریوں کے لیے شفا ہے۔ یہ شفااصلاً تو روحانی بیماریوں کی ہے لیکن اس کے ساتھ جسمانی بیماریوں کے لیے بھی شفا ہے۔ بخاری شریف کی روایتکے مطابق حضرت ابو سعید خدریؓ اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ چند ساتھیوں کے ہمراہ سفر پر تھے کہایک بستی کے قریب رات کا وقت ہو گیا اور انہوں نے بستی والوں سے کہا کہ وہ مسافر ہیں انہیں کھانا کھلا دیا جائے۔بستی والوں نے اس سے انکار کر دیا تو وہ بستی کے قریب ایک جگہ ڈیرہ لگا کر سو گئے۔ اتفاق کی بات ہے کہ بستیکے سردار کو کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا، زہر کا اثر دماغ تک پہنچا تو وہ بے قابو ہونے لگا، بستی والوں نے اپنے تئیںعلاج وغیرہ کیا مگر کوئی افاقہ نہ ہوا، انہیں خیال آیا کہ جو لوگ بستی سے باہر ٹھہرے ہوئے ہیں ہو سکتا ہے کہ ان کےپاس اس کا کوئی علاج موجود ہو، وہ نصف شب کے وقت ان کے پاس آئے اور کہا ہمارے سردار کو کسی زہریلی چیز نےڈس لیا ہے اور ہمارے پاس کوئی علاج نہیں ہے، تمہارے پاس کوئی علاج ہو تو ہمارے ساتھ آؤ اور ہم پر مہربانی کرو۔ ابوسعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ ہمارے ذہن میں یہ بات تھی کہ انہوں نے ہمیں کھانا نہیں کھلایا اس لیے ہم نے کہا کہ علاجہمارے پاس ہے مگر ہم معاوضہ کے بغیر علاج نہیں کریں گے اور معاوضہ تیس بکریاں ہو گا، وہ آمادہ ہو گئے، ہم نے جاکر اسے دم کیا اور وہ ٹھیک ہو گیا۔ ہم بکریاں لے کر واپس آئے تو خیال ہوا کہ یہ بکریاں جو ہم نے دم کے عوض لی ہیںشاید ہمارے لیے جائز نہ ہوں، اس لیے جناب نبی اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ عرض کریں گے، اس کے بعد انبکریوں کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں گے۔ چنانچہ جب نبی اکرمؐ کو سارا واقعہ سنایا گیا تو آپ نے دل لگی کے طور پرفرمایا کہ ان بکریوں میں سے میرا حصہ بھی نکالو، یہ اشارہ تھا کہ بکریاں لے کر تم نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ نبیاکرمؐ نے اس موقع پر پوچھا کہ دم کس نے کیا تھا اور کیا پڑھا تھا؟ ابو سعید خدریؓ نے کہا کہ میں نے دم کیا تھا اورسورۃ فاتحہ پڑھی تھی۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آنحضرت نے پوچھا کہ تمہیں کس نے بتایا تھا کہ اس میں شفا ہے توابو سعید خدریؓ نے عرض کیا کہ ایک بار آپ کی زبان سے سنا تھا کہ اس سورۃ کا نام ’’الشفاء‘‘ بھی ہے، اسی یقینپر میں نے دم کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے شفا دے دی۔ اب صحابہ رضی الله نے بھی تو قرآن دنیاوی حاجت کے لیے پڑھا اوراوپر سے مزدوری بھی وصول کی، تو کیا اب ہم یہ ایمان رکھیں کہ الحمد شریف کے موکلات نے غصہ میں آ کر انصحابہ کرام رضی الله کو اور پریشانیوں اور مصیبتوں میں مبتلا کیا ہو گا؟ یاد رکھیے کہ ایسی باتیں اور عقائد پھیلانےوالوں کی حیثیت ایک جاہل بڑوے سے زیادہ کی نہیں۔ اب آپکی مرضی کہ آپ اپنا رہبر صبح شام قرآن کی غلط تشریحکرنے والے کسی جاہل بڑوے کو بنائیں یا پھر قرآن مجید کو عزت دیں اور قرآن مجید سے وابستہ ایسی کسی بھی بکواساور بکواس کرنے والے کا مکمل بائکاٹ کریں اور قرآن کریم اور اسما کی تلاوت و زکر کو الله کی رضا کے ساتھ ساتھاپنی تمام تر دینی و دنیاوی حاجات میں بھی وسیلہ بنائیں۔
    اسی طرح ام المومنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرمؐ کا معمول تھا کہ رات کو سونے سے پہلے آخری تینسورتیں جو ’’معوذاتین‘‘ کہلاتی ہیں یعنی، قل ھو اللّٰہ احد، قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھ کر اپنے ہاتھوںپر پھونکتے تھے اور ان ہاتھوں کو پورے جسم پر پھیرتے تھے۔ آخری ایام میں جب کمزوری بڑھ گئی تو میں یہ سورتیںپڑھ کر نبی اکرمؐ کے ہاتھوں پر پھونکتی تھی اور ان کا ہاتھ پکڑ کر ان کے جسم پر پھیرتی تھی۔ معوذات کا یہ پڑھنابرکت کے لیے تھا اور شفا کے لیے تھا۔ اور قرآن کریم کی تلاوت سے یہ دونوں فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ اب یہاں فلق و ناسکا پڑھنا ظاہری بات ہے دنیاوی برکت اور شفا کے لیے تھا اور اگر کوئی جاہل بڑوا یہ کہے کہ جی شفا اور برکت توحاصل ہو گئی لیکن ثواب نہ ملے گا کیونکہ حاجت دنیاوی تھی تو اس بکواس کو آپ نے کتنی اہمیت دینی ہے اور کتنینئیں، یہ میں اپ پر چھوڑتا ہوں۔
  6. قرآن کریم کی تلاوت سے ہمارے ذہنوں میں ایک مقصد عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ وفات پانے والے کسی بزرگ، دوست،ساتھی اور رشتہ دار کو ایصال ثواب کے لیے ہم قرآن کریم پڑھتے ہیں اور اس کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔ قرآن کریمسے یہ مقصد اور فائدہ بھی حاصل ہوتا ہے، ایصال ثواب بھی ہوتا ہے اور قرآن کریم کی برکت سے اللہ تعالیٰ مغفرت اوربخشش بھی فرماتے ہیں۔
  7. جبکہ قرآن کریم کی تلاوت سے ہمارا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے کہ قراء کرام عام جلسوں میں اچھے سے اچھے لہجےمیں قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں جس سے لوگوں کو قرآن کریم پڑھنے کی طرف رغبت ہوتی ہے، قرآن کریم کے اعجاز کااظہار ہوتا ہے، اور غیر مسلموں کے سامنے قرآن کریم کی اچھے لہجے میں تلاوت ان کی قرآن کریم کی طرف کشش کاذریعہ بنتی ہے۔
  8. قرآن مجید و اسما کی تلاوت کرنے سے آپکا نام ایک خاص روحانی دنیا میں جانا پہچانا جاتا ہے اور اُس دنیا کی مخلوقاپ سے بے انتہا محبت کرتی ہے۔ اور اسکے فوائد کی لسٹ بے شمار ہے۔ اسمیں جنات و ملائکہ دونوں شامل ہیں۔ کسیبکواس قسم کے کوڈ سے یہ چیز آپکو حاصل نہیں ہوتی۔ جو اس بات کا انکار کرے اُس بڑوے کو روحانی دنیا کی الف بکا بھی نہیں پتہ۔ ایک بندے کو میں نے اسم الہی لطیف کی ریاضت کروائی۔ ریاضت کے چند دنوں کے اندر اندر موکلحاضر ہو گیا۔ اب عام طور پر تو جب موکلات آتے ہیں تو پہلے ڈراتے ہیں لیکن یہاں الٹ سین تھا۔ موکل بجائے ڈرانے کےمسکرا رہا تھا۔ بندے نے مجھ سے پوچھا تو مجھے سمجھ نہ آیا۔ میں نے کہا بھئی مسکرا رہا ہے تو مسکرانے دیجیے۔جس دن عمل مکمل ہو پوچھ لیجیے گا کیوں مسکرا رہے ہیں۔ لو جی بندے سے صبر نہ ہوا اور اُس نے اگلے دن ہی پوچھلیا سلام کے بعد کہ اپ کیوں مسکرا رہے ہیں۔ آگے سے موکل نے جواب دیا کہ اظہر حسین کو کہیے گا کہ اپ تو ہمیںبھول گئے لیکن ہم آپکو نہیں بھولے۔ چونکہ صاحب عمل کو اظہر حسین نے اجازت دی ہے اور عمل کا کہا ہے اسلیے اظہرحسین کے ساتھ ساتھ اب صاحب عمل بھی ہمارا دوست ہے اور ہم دوستوں سے مسکرا کر ہی ملتے ہیں۔ اب یہ جوابجب اُس بندے نے مجھے بتایا تو میں حیران رہ گیا اور شرمندہ بھی بہت ہوا۔ ۔ اب لطیف کا موکل کیوں کہہ رہا تھا کہاسکو اظہر سے محبت ہے اور اظہر تو انکو بھول گیا لیکن وہ نہ بھولے۔ وجہ یہ تھی ، جسکا اُس بندے کو بھی پتہ نہتھا ، کہ میں نے زمانہ نوجوانی میں لطیف کا ایک نوے ہزار کا ورد کیا تھا ہمزاد کی تسخیر کے لالچ میں۔ پھر کچھعرصہ لطیف کا ورد کیا اور پھر مکمل طور پر چھوڑ دیا۔ اب آج اتنے برسوں بعد زمانہ بڑھاپے میں کسی نے مجھے لطیفکے موکل کا پیغام دیا اور تجربہ شئیر کیا۔ اب یہاں سوال یہ ہے کہ ایک لطیف کا عمل جو میں نے ہنڈرڈ پرسنٹ دنیاویچیز کے حصول کے لالچ میں کیا، اُسکے موکل کو میری پڑھائی یاد ہے اور اُس بنا پر وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں، توجس ذات خداوندی کو پکارا گیا کیا وہ ذات مجھے ثواب سے بھی محروم کرے گی اور رجعت میں بھی مبتلا کرے گی ؟  اسی لیے یہ جاہل بڑوے جو قرآنی موکلات کے بارے بکواس کرتے ہیں، سوائے بکواس در بکواس کے اور کچھ نہیں کرتے۔پھر وہی بات جو جاہل یہ بھی کہے کہ اُس نے کبھی کوئی عمل کیا نہیں، موکل کوئی دیکھا بھالا نہیں، ریاضت کوئی کینہیں اور پھر ان موکلات کے بارے اپنی بل شٹ تھیوریز بھی پیش کرے، وہ صحیح معنوں میں بڑوا نہیں تو اور کون ہے؟
  9. قرآن و اسما کی تلاوت کرنے والوں کو قیامت کے روز حساب کتاب کے بعد وہی جہان عطا کیے جائیں گے جن سے وابستہآیات و اسما وہ دنیا میں تلاوت کرتے تھے۔ اور آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی جب ان جہانوں کا مشاہدہ ہو گا۔کچھ صاحب کشف لوگ دنیا میں ہی کسی محدود حد تک ان جہانوں کا مشاہدہ کر لیتے ہیں لیکن اکثریت کو یہ مشاہدہروز قیامت ہی ہو گا۔ چونکہ یہ آبزرویشن مکمل طور پر روحانی ہے اسلیے اسکا کوئی شرعی ثبوت میں آپکو نہیں دےسکتا۔ یا مان لیجیے یا رد کر دیجیے، آپکی مرضی۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ قرآن و اسما کو چھوڑ کر اور بکواس قسمکے کوڈز اور کائنات کو لوو یو اور لوو می کہنے سے تو یہ جہان حاصل ہونے سے رہے۔

یہ نو مقاصد جن کا میں نے ذکر کیا ہے دراصل وہ فوائد ہیں جو ہمیں قرآن کریم سے حاصل ہوتے ہیں اور ہم قرآن کریم کیتلاوت یا سماع سے یہ فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم کی تلاوت سے یہ سارے فائدے ملتے ہیں اور اللہتعالیٰ نے قرآن کریم کو ان فوائد کا منبع بنا یا ہے۔

قرآن کریم کا ایک اور بھی مقصد ہے جو نہایت اہم ہے اور جسکی طرف ہماری توجہ نہایت کم ہے۔

قرآن کریم نے اپنا موضوع صرف ایک لفظ میں بیان کیا ہے اور وہی اس کا اصل مقصد ہے جو تلاوت کا آغاز کرتے ہی سامنےآجاتا ہے۔ سورہ البقرہ کا آغاز اسی سے ہوتا ہے کہ ’’ذلک الکتاب لا ریب فیہ ھدی للمتقین‘‘ (سورہ البقرہ ۲) یہ کتاب شک وشبہ سے بالاتر ہے اور متقین کے لیے ’’ہدایت‘‘ ہے۔ یعنی اس کا اصل موضوع ہدایت ہے، یہ نسل انسانی کی راہنمائی کے لیےآئی ہے کہ اسے دنیا میں کس طرح رہنا ہے اور انسانوں کو اس دنیا میں کس طرح زندگی بسر کرنی ہے۔ قرآن کریم کا اصلموضوع ’’ھدًی‘‘ ہے۔
اس لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم اسے ہدایت اور راہنمائی کے لیے پڑھیں اور اس کی ہدایات کی روشنی میں اپنی زندگی کےمعاملات طے کریں۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمائے ہمارا معاملہ قرآن کریم کے ساتھ کچھ اس طرح کا ہے کہ جیسے کسی کے ہاںکوئی بہت ہی معزز مہمان آجائے وہ اسے پورا پروٹوکول دے، اس کی خدمت کرے اور اس کی آمد سے جتنے فوائد حاصل ہوسکتے ہوں وہ بھی حاصل کرے، لیکن اس سے اس کی آمد کا مقصد نہ پوچھے کہ آپ کس مقصد کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ یہطرز عمل خودغرضی کہلاتا ہے اور ہمارا قرآن کریم کے ساتھ خدانخواستہ یہی خودغرضی والا معاملہ چل رہا ہے۔ ہم اس پرایمان رکھتے ہیں، اس سے محبت و عقیدت بھی ہمارے دلوں میں ہے، اس کا ادب و احترام بھی کرتے ہیں، اس سے سارے فائدےبھی حاصل کرتے ہیں، مگر اس سے یہ نہیں دریافت کرتے کہ اس کی آمد کا مقصد کیا ہے اور وہ ہم سے کیا چاہتا ہے؟ اوراسکا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اپ لوگ دن کے دس پندرہ منٹ قرآن کی کوئی بھی تفسیر پڑھیں جسمیں ایک نہایت اعلی چوائستفسیر ابن کثیر ہے۔ تاکہ آپکو کم از کم آیات کا ترجمہ، آیات کی تشریح احادیث سے اور آیات سے وابستہ واقعات کی نشاندھیہو۔

قرآن کریم کے ساتھ ہماری عقیدت اور اس کا ادب و احترام ہمارا قیمتی اثاثہ ہے۔ قرآن کریم اور جناب نبی اکرمؐ کی ذات گرامیکے ساتھ یہ جذباتی محبت ہی ہمارا اصل اثاثہ ہے اور سرمایہ حیات ہے۔ البتہ ہمیں صرف اس پر قناعت کرنے کی بجائے قرآنکریم اور سنت نبویؐ کو اپنی زندگی کا راہنما بنانا چاہیے اور ہر وہ سو کالڈ روحانی علم جو ہمیں قرآن و اسما سے دور کرے،اُسکو رد کرنا چاہیے اور اُسکے شر پر لعنت بھیجنی چاہیے۔ جیسا کہ حدیث محمد کریم میں ہے، لعنۃ الله علی شر کم۔

قرآن کی عظمت کو مدنظر رکھتے ہوئے آج ایک ایسا عمل دے رہا ہوں جسکا تعلق کلمات مقطعات قرآنی سے ہے اور یہ عملجمیع حاجات کو روا کرتا ہے۔ یہ عمل روحانی ترقی کے لیے بھی اکثیر عمل ہے۔ اس عمل کے کرنے سے تلاوت قرآن کا ثواب توحاصل ہو گا ہی بلکہ اس عمل سے تلاوت و ذکر الہی میں مزید حلاوت بھی حاصل ہو گی۔ اس عمل سے گھر و زندگی میں خیرو برکات بڑھیں گی۔ کچھ عملیات کسی مخصوص حاجت کے لیے نہیں ہوتے بلکہ صرف اس لیے ہوتے ہیں کہ نور کو اپنی طرفمائل کریں اور ظلمت یعنی اندھیرے کو بھگائیں۔ یعنی ملائکہ کو اپنی طرف متوجہ کریں اور شیاطین کو دفع کریں۔ اس سےہماری زندگی میں جب خیر و برکت و نور بڑھے گا تو بہت ساری حاجات خود بخود پوری ہو جائیں گی۔ مثلاً رجب میں دعا الکنزکا عمل خیر و برکات کے لیے تھا لیکن جب پڑھا گیا تو ایک جادو جنات کے مریض کو نجات مل گئی جسکا فیڈ بیک اُس پوسٹپر موجود ہے۔ یہ عمل ہر طرح کے رزق کو بھی اپنی طرف کھینچنے کے لیے ہے۔ عربی میں رزق کے معنی عطا کے ہیں چاہے عطادنیا میں ہو یا آخرت میں۔ رزق رب القھار کی ہر عطا کردہ چیز کو کہا جاتا ہے۔ دولت، طاقت، علم، بیوی، شوہر وغیرہ سبنعمتیں رزق کی تعریف میں داخل ہیں۔ اور یہ عمل آپ ہر چیز کے حصول کے لیے استعمال کر سکتے ہیں چاہے وہ نیک رشتہ ہویا روٹی ہو۔ اب آتے ہیں عمل کی طرف۔

۱۔ یٰسٓۚ(۱)وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِیْمِۙ(۲)اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَۙ(۳)عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍؕ(۴)

ترجمہ:

یس۔ حکمت والے قرآن کی قسمبےشک تم ( محمد کریم) سیدھی راہ پربھیجے گئے ہو.

۲۔ صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِی الذِّكْرِؕ(۱)بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ(۲)

ترجمہ:

ص۔ قسم ہے اس قرآن کی جو ذکر والا ہے۔ لیکن جن لوگوں نے کفر کی روش اختیار کی ہے وہ غرور اور ضد میں مبتلا ہیں۔‘‘

۳۔ قٓ ۫ۚوَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ(۱)بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ(۲)

قۤ، اس قرآن کی قسم جو بڑا شان والا ہے۔ بلکہ وہ تعجب کرتے ہیں کہ ان کے پاس انہیں میں سے ایک( محمد کریم ) ڈرانے والاآیا پس کافروں نے کہا کہ یہ تو ایک عجیب بات ہے۔

۴۔ نٓ ۚ وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُوْنَ (1) مَآ اَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُـوْنٍ (2)  وَاِنَّ لَكَ لَاَجْرًا غَيْـرَ مَمْنُـوْنٍ (3)

ن، قلم کی قسم ہے اور اس کی جو اس سے لکھتے ہیں۔ آپ اللہ کے فضل سے دیوانہ نہیں ہیں۔ اور آپ کے لیے تو بے شمار اجرہے۔

شمع کے اعداد یہ ہیں۔ جو بائیں بازو پر بھی لکھے جائیں گے۔

۹۶۹۹۹۹۹۹۹۹۹۱۶

چونکہ یہ آتشی اعداد ہیں اسلیے ہو سکتا ہے بازو پر تھوڑی جلن وغیرہ ہو لیکن اُسکی فکر نہیں کرنی۔ شمع جلا کر مندرجہبالا آیات یٰس سے لے کر نٓ تک پینتالیس مرتبہ پڑھیں۔ اگر زیادہ عبادت کا موڈ ہو تو بہتر ۷۲ مرتبہ آیات پڑھ لیں۔ اسکے بعدمندرجہ ذیل حدیث کی مبارک دعا ایک مرتبہ یا تین مرتبہ پڑھیں اور پھر اپنی حاجت کی دعا کر لیجیے۔ یہ حدیث کی دعا یادکرنے کی تاکید خود محمد کریم نے کی ہے، سوچئے کتنی مبارک دعا ہو گی۔ آپ سب نے اس دعا کو یاد کرنا ہے۔ یہ میرا حکمہے۔ یہ عمل سات دن یا نو دن کر لیا جائے ہر مہینے۔ اور اس عمل کو رزق کے لیے رکھا جائے جسکی تعریف میں اوپر دے چکاہوں۔ یہ عمل الله کی کسی بھی نعمت کو حاصل کرنے کے لیے کیا جائے گا، باقی حاجات کے لیے نہیں۔ یہ عمل کبھی بھیشروع کیا جا سکتا ہے۔ اس عمل کی اجازت کسی منافق اور میرے بارے بغض زدہ   انسان کو نہیں۔ صرف انکو ہے جو مجھے نیک نیتی سے فالو کرتے ہیں اور جو اس پورے مضمون کو نہایت غور سے پڑھیں۔ کوشش کیجیے کہ عمل کیا رات کو جائے۔

پیش خدمت ہے حدیث کی دعا۔

اَللّٰھُمَّ إِنِّی عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ وَابْنُ أَمَتِکَ، نَاصِیَتِی بِیَدِکَ، مَاضٍ فِیَّ حُکْمُکَ، عَدْلٌ فِیَّ قَضَاؤُکَ، أَسْأَلُکَ بِکُلِّ

اِسْمٍ ہُوَ لَکَ سَمَّیْتَ بِہِ نَفْسَکَ، أَوْ عَلَّمْتَہُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِکَ، أَوْ أَنْزَلْتَہُ فِی کِتَابِکَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِہِ فِی عِلْم

الْغَیْبِ عِنْدَکَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِیعَ قَلْبِی، وَنُورَ صَدْرِی، وَجِلَائَ حُزْنِی، وَذَہَابَ ہَمِّی، إِلَّا أَذْہَبَ اللّٰہُ ہَمَّہُ

وَحُزْنَہُ، وَأَبْدَلَہُ مَکَانَہُ فَرَجًا۔

۔ سیدنا عبد اللہرضیاللہعنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہصلیاللہعلیہوآلہوسلم نے فرمایا: جب بھی کسی کو کوئی فکر وغم اور رنج و ملال لاحق ہو اور وہ یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی عَبْدُکَ وَابْنُ عَبْدِکَ…… وَذَہَابَ ہَمِّی، (اے اللہ! میں تیرا بندہ ہوں، تیرےبندے کا بیٹا ہوں اور تیری بندی کا بیٹا ہوں، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، میرے بارے میں تیرا حکم جاری ہے اور میرے بارےمیں تیرا فیصلہ عدل والا ہے، میں تجھ سے تیرے ہر اس خاص نام کے ساتھ سوال کرتا ہوں جو تو نے خود اپنا نام رکھا ہے یااسے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھلایا ہے یا علم الغیب میں اسے اپنے پاس رکھنے کوترجیح دی ہے کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار اور میرے سینے کا نور اور میرے غم کو دور کرنے والا اور میرے فکر کو لے جانےوالا بنا دے)۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے فکر و غم اور رنج و ملال کو دور کرکے اس کے بدلے وسعت اور کشادگی عطا کرے گا۔ کہاگیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم یہ کلمات سیکھ نہ لیں؟ آپصلیاللہعلیہوآلہوسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، ہر سننے والے کو یادکر لینے چاہئیں۔

مسند احمد۔

تقریباً ساڑھے پانچ سو کے قریب لوگوں نے میرا پچھلا فلق کا عمل کیا ہے اور آگے بھی کروایا ہے۔ جسکے لیے میں آپ سب کاشکر گزار ہوں۔ ایک بھونکنے والے بڑوے کی وجہ سے بہت سے لوگوں نے میری پوسٹ پر کمنٹس کرنے چھوڑ دیے اور سارے انباکس کی طرف آ گئے۔ یاد رکھیے یہ بھونکنے والا ناسور آپکا کچھ نہیں بگاڑ سکتا لیکن آپ لوگ خود ہی ڈرتے رہیں تو آپکیمرضی۔ میں نے کبھی کسی کی پوسٹ پر کمنٹس نہیں کیے اور نہ ہی کبھی کسی کو ایسا کرنے کو کہا۔ کیونکہ میں چوریچوری چپکے چپکے ہیجڑوں کی طرح عورتوں کے ان باکس میں نہیں گھسا رہتا اور نہ ہی انکو بتاتا رہتا ہوں کہ میری پوسٹ پرفلاں کمنٹ کرو یا دوسرے کی پوسٹ پر یہ کمنٹس کرو۔ لیکن اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی کبھی برداشت نہیں کیا کہ میریپوسٹس پر لوگوں کو آنے اور کمنٹس کرنے سے روکا جائے۔ اگر کوئی جاہل بڙوا یا اُسکا کوئی اُسی کی طرح کا فالور آپکو انباکس دھمکائے تو مجھے بتائیے لازمی اور ساتھ اسکے کمنٹس کے اُسی وقت سکرین شاٹس بھی لے لیجیے۔ حالنکہ میرے پاسپہلے بھی کافی سکرین شاٹس ہیں جو کسی مناسب وقت سب کے لیے پوسٹ کرونگا۔ باقی کوشش کر کے مجھے فیڈ بیک میریآئی ڈی پر ہی دیجیے اور اگر کوئی ان باکس اس سلسلے اپ سے کوئی استفسار کرے تو اُسکو گالیاں دیجیے بے شک۔ میںآپکے پیچھے ہوں۔ یہ بڑوے جو جادو کی تشخیص کر کے آپکو آگے عاملین کے پاس بھیج دیتے ہیں، انکی اوقات بس یہیں تک ہے،یہ آپکا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ لیکن اگر آپ نے ڈرنا ہی ہے تو بس پھر مبارک ہو آپکو آپکا ڈر۔ افسوس کے علاوہ اور میں کچھکر نہیں سکتا۔

صدق الله العلی العظیم

والله اعلی و اعلم۔

Please follow and like us:
fb-share-icon

2 thoughts on “قرآن مجید اور حصول رزق”

  1. ماشاءاللہ علم و معلومات کا خزانہ ہے آپ کے پاس ،اپ کے علوم کی زنبیل میں زندگی کی ہر الجھن کے لیے شمع کا قرآنکی پرھائی کے ساتھ بہترینسے بہترین عمل ہے، اللہ سبحان وتعالی حاسدین کے شر سے اور شرارت
    سے امان دے ۔آپ کی تحریر پڑھ کر ایمان کی حرارت محسوس ہوتی ہے رگ و جان میں اور جذبہ تشکر سے دل لبریز ہو جاتا ہے کہ الحمد للہ دین حق پر پیدا ہوئے ہیں اللہ کے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں ،ان مینٹل سائنسز والوں کی مت ماری گئی ہے اپنی شامت اعمال کو خود آوازیں مار رہے ہیں چار دن کی چاندنی ہے خود ہی گم ہو جائیں گے اماوس کے اندھیروں میں ،اللہ کی ذات اس فتنے سے بچا کر رکھے اللہ رب العزت ہم کو ہماری نسلوں کو قرآن کو سمجھنے کی اور عمل کرنے کی توفیق دے ہماری نسلوں کو قرآن کے نور کو سمیٹنے کی توفیق دے زندگی کے ہر راستے پر قرآن کی روشنی ہماری راہ کو روشن رکھے آپ زندگی کے اندھیروں میں قرآن کے جگنو تھما کر ہمیں دنیا وآخرت کی جگمگا ہٹوں کا حصہ دار بنا رہے ہیں یہ وہ راستہ ہے جلد یا بدیر خیر ہی ہے ،اللہ رب العزت آپ کا حامی وناصر ہو آپ کے وسیلے سے ہم ہمیشہ قرآن کی خیر وبرکتسے فیضیاب ہوتے رہیں امین
    آپ سے پوچھ سکتی ہوں آپ کے نزدیک وفاداری کا معیار
    پیمانہ نہیں ہے ناپنے کا ،بس یہ کہوں گی آپ سے عقیدت میری اولاد میں بھی نظر آئے گی آپ کو انشاءاللہ
    آپ کے وسیلے سے فیض اور خیر سمیٹنے والے بن جائیں ،سلامت رہیے
    عمل اپنی پوری آب وتاب سے جاری ہے آج انشاءاللہ پانچویں دن کی پڑھائی مکمل ہوگی اللہ سبحان وتعالی قبول ومنظور فرمائے

Leave a Comment