اعوذ بالله من الشیطن الرجیم
انه من سلیمن و انه بسم الله الرحمن الرحیم
بسم الله المذل القھار لکل عدو و شیطان۔
احادیث مبارکہ میں درود و سلام کے بے شمار فضائل و برکات کا ذکر ملتا ہے جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں جو احادیثکی زبان میں پیش خدمت ہیں
1۔حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہعلیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
أوْلَی النَّاسِ بِي يَومَ القَيَامَةَ أَکْثَرُهُمْ عَلَيَّ صَلَاةً.
(ترمذی، الجامع الصّحيح، أبواب الوتر، باب ماجاء في فضل الصّلاة علی النّبي صلی الله عليه وآله وسلم، 1 : 495، رقم : 484)
’’قیامت کے روز لوگوں میں سے میرے سب سے زیادہ قریب وہ ہوگا جو اس دنیا میںکثرت سے مجھ پر درود بھیجتا ہے۔‘‘
2۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
صلّوا عليّ فإنّ الصّلاة عليّ زکاةٌ لّکم.
’’مجھ پر درود پڑھا کرو۔ بلاشبہ مجھ پر (تمہارا) درود پڑھنا تمہارے لئے (روحانی و جسمانی) پاکیزگی کا باعث ہے۔‘‘
(ابن أبي شيبة، المصنف، 2 : 253، رقم : 8704)
3۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو مومن جمعہ کیرات دو رکعت اس طرح پڑھے کہ ہر رکعت میں 25 مرتبہ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ سورۃ فاتحہ کے بعد پڑھے، پھر ہزار مرتبہ یہ درودپڑھے اللَّهُمَّ صَلِّی عَلَی مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْاُمِّي تو آنے والے جمعہ سے پہلے خواب میں میری زیارت کرے گا۔ جو میری زیارت کرےگا اﷲ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما دے گا۔‘‘
(طبرانی، المعجم الأوسط، 6 : 173، رقم : 6111)
4۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
مَنْ صَلَّی عَلَیَّ وَاحِدَةً، صَلَّی اﷲُ عَلَيْهِ عَشْرًا
( مسلم، الصحيح، کتاب الصلاة، باب الصّلوٰة علی النّبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعد التشھّد، 1 : 306، رقم : 408)
’’جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھا اﷲ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمتیں نازلفرمائے گا۔‘‘
5۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
’’جب (اﷲ تعالیٰ کے لئے) محبت رکھنے والے دو بندے ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمپر درود بھیجتے ہیں تو ایک دوسرے سے علیحدہ ہونے سے پہلے ان کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔‘‘
(أبو یعلی، المسند، 5 : 304، رقم : 2960
- حضرت عبد اﷲبن مسعود رضی اللہ عنہ سے روا یت ہے کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اور حضور نبی اکرم صلیاللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ وہاںرونق افروز تھے۔ جب میں نماز پڑھ کر بیٹھ گیا تو پہلے میں نے اﷲ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی پھر حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھا پھر اپنے لئے دعا مانگی تو حضور نبی اکرم صلی اللہعلیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
سَلْ تُعْطَهْ، سَلْ تُعْطَهْ۔
’’مانگ تجھے عطا کیا جائے گا، مانگ تجھے عطا کیا جائے گا۔‘‘
(ترمذی، الجامع الصحيح، أبواب السفر، باب ما ذُکِرَ فِي الثَّنَائِ علی اﷲ والصلاة علی النبي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، 1 : 588،رقم : 593)
- حضرت عبد اﷲ بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا : جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھے خوشخبری سنائی کہ آپ کا پروردگار فرماتا ہے :
مَنْ صَلَّی عَلَيْکَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ، وَمَنْ سَلَّمَ عَلَيْکَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ۔
( حاکم، المستدرک، 1 : 735، رقم : 2019)
’’جو شخص آپ پر درود پڑھتا ہے میں اس پر درود پڑھتا ہوں اورجو کوئی آپ کو سلام عرض کرتا ہے میں اس پر سلام بھیجتا ہوں۔‘‘
- حضرت اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
’’تمہارے دنوں میں جمعہ کا دن سب سے افضل ہے اس میں حضرت آدمں کو پیدا کیا گیا اور اسی میں ان کی روح قبض کیگئی اور اسی میں صور پھینکا جائے گا اور اسی میں سب بیہوش ہوں گے۔ پس اس روز مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کروکیونکہ تمہارا درود پڑھنا مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ لوگ عرض گزار ہوئے : یا رسول اﷲ! اس وقت بھلا ہمارا درود پڑھنا کسطرح پیش ہوگا جبکہ آپ رحلت فرما چکے ہوں گے؟ یعنی مٹی (میں دفن) ہو چکے ہوں گے۔ آپ نے فرمایا : بیشک اﷲ تعالیٰ نےانبیاء کرام کے جسموں کو زمین پر حرام فرما دیا ہے۔‘‘
(ابن ماجة، السنن، کتاب الجنائز، باب ذِکْرِ وَفَاتِهِ وَدَفْنِهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، 2 : 304، رقم : 1636)
درود شریف پڑھنا ایک عجیب و امیر قسم کا عمل ہے۔ آپ نے اسکے آٹھ فوائد اوپر پڑھ لیے۔ میری پوسٹ آج پوانٹ نمبر تین کےاردگرد گھومے گی۔ زیارت رسول الله محمد کریم کا عمل اپنے اندر بے پناہ خصوصیات رکھتا ہے۔ ایک تو زیارت رسول الله خودبہت بڙی نعمت ہے لیکن اسکے علاوہ بھی زیارت رسول کا عمل اپنے کچھ اعجاز دیکھاتا ہے۔ ایک بات ذہن میں رکھیے گا کہزیارت رسول کا عمل کرنے سے جہاں کچھ لوگوں کو زیارت رسول ہو گی وہاں بہت سوں کو نہیں بھی ہو گی۔ اسکا کیا مطلبہوا، کہ عمل کامیاب یا ناکام؟ اگر کسی روالپنڈی کے میراثی سے پوچھیں گے تو یقینا نالہ لئی کی گندی پیداوار آپکو یہی کہےگی کہ آپکا عمل ناکام ہوا۔ لیکن معاملہ کچھ اسکے برعکس ہے۔
ایک تو زیارت نہ ہونے کے باوجود اوپر والے آٹھ پوانٹس میں سے سات کا فائدہ آپکو یقیناً پہنچے گا۔ دوسری طرف آئیے زیارترسول الله کے عمل کے کچھ ایسے فوائد آپکو بتاؤں جو عام طور پر کتابوں میں نہیں ملتے۔ زیارت رسول کے عمل سے زیارت ہو نہہو، دست غیب جاری ہو جاتا ہے۔ ملائکہ کرام صاحب ورد کے قدموں تلے اپنے پر بچھاتے ہیں اور بہت دور دور سے زیارت کرنےآتے ہیں۔ بےشمار روحانی مخلوق ذاکر کو دیکھنے آتی ہے، اُسپر فخر کرتی ہے اور اُسکو دعا دیتی ہے۔ کچھ لوگوں کو اسروحانی مخلوق کا بھی دیدار ملتا ہے۔ ذاکر کے دنیاوی معملات خیر کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ رزق بڑھتا ہے۔ آپ ہر جمعہ زیارترسول کا عمل کیجیے، چاہے آپکو پہلے دن زیارت ہو جائے چاہے تاحیات نہ ہو، لیکن مندرجہ بالا فوائد لازمی حاصل ہونگے۔زیارت رسول کے عمل کی وجہ سے دنیا میں زیارت ہو نہ ہو، بروز محشر حوض کوثر پر محمد کریم کا دیدار نصیب ہو گا اورجنت میں اکثر محمد کریم کا دیدار و صحبت نصیب ہو گی۔ جس بندے کو دنیا میں دیدار رسول نصیب نہ ہوا، بروز قیامت اسکاپورا خیال رکھا جائے گا اور محمد کریم اُس کو تب تک زیارت کروائیں گے جب تک اسکا دل نہ بھر جائے۔ اور دل تو کبھی نہیںبھرے گا۔ تو جب یہ پوچھا جائے گا کہ بتاؤ دیدار سے مطمئن ہو یا نہیں اور بندہ کہے گا نہیں تو محمد کریم مسکرائیں گے اورمحمد کریم کے چہرہ اطھر کے ساتھ ساتھ داندان مبارک کی زیارت بھی ہو گی۔ بہرحال زیارت رسول کا عمل دنیا و آخرتدونوں میں آپکے لیے مددگار ثابت ہو گا اور خیر و کشائش کا ضامن ہو گا۔ روحانیت میں بے پناہ اضافہ ممکن ہو گا اور نظر بدو جادو جنات کے اثرات حاوی نہ ہو سکیں گے۔ اسکی ایک وجہ ملائکہ کرام کی حاضری بھی ہے جسکی وجہ سے شیاطینبھاگ جاتے ہیں۔
یہ عمل ہر جمعرات و جمعہ کی درمیانی رات آپ نے کرنا ہے۔ یہ عمل خواتین کے مخصوص دنوں میں نہیں ہو سکتا کیونکہ نمازپڑھنی لازمی ہے اسمیں۔ خواتین ہر مہینے دو یا تین جمعہ اس عمل کو کریں اور مرد حضرات ہر جمعہ کو اپنا معمول بنانے کیکوشش کریں۔ کم از کم ہر مہینے ایک مرتبہ تو لازمی کیا جائے۔ زیارت رسول ہو یا نہ ہو، ہر مہینے اس عمل کو کیا جائے۔ اسعمل کا ایک اور فائدہ بھی ہو گا۔ حدیث یاد ہو گی تو وحی الٰہی یاد کرنے کا ثواب۔ حدیث پر عمل کرنے سے اطاعت محمد کریمکا ثواب۔ جس نے ایک سنت رسول پر عمل کیا اُسکے لیے سو شہیدوں کا ثواب۔ تو درود پڑھنا تو رب القھار و ملائکہ دونوں کیسنت ہے۔ خود ہی ثواب کا اندازہ لگا لیجیے۔ بلکہ نہ ہی لگائیے اندازہ۔ کچھ چَول گندی نالی کے کیڑے، تین مہینے والے سو کالڈاہل علم، نالہ لئی کی پیدائش آپکو ثواب سے محرومی کی نوید سناتے نظر آتے ہیں۔ ثواب کا معاملہ الله کے ہاتھ میں ہے سو ثوابکے مامے خان بننے کی بجائے ثواب کا معاملہ رب القھار پر چھوڑ دیجیے اور رب القھار سے بے پناہ ثواب کی امید و حرصرکھیے ناکہ اندازے لگانے کے کہ ثواب ملا ہو گا کہ نہیں، کتنا کم یا زیادہ ملا ہو گا یا اگلے سے کم ملا ہو گا یا زیادہ۔
پوانٹ و حدیث نمبر تین والی نماز پڑھنے کے بعد ہزار مرتبہ درود پڑھیے گا جو حدیث میں دیا گیا ہے۔ اُسکے بعد مندرجہ ذیل دعاتین مرتبہ پڑھیے گا اور آخر میں تین مرتبہ اللھم آمین۔ دعا یہ ہے۔
اللھم انا نسالک بحق الصلاة علی نبیک محمد علمنا من علمک وارزقنا من واسع فضلک و وفقنا للقیام بواجبحقک و للشکر علی ما اولیتنا من نعمائک حتی نستوجب المزید منک بشکرک یالله یاالله یاالله ھب لنا فی ھذہالساعة و فی کل حین ابدا و لذریاتنا و احبابنا ابدا و للمسلمین الی یوم القیامة
اس دعا کی زیر زبر اور تلاوت میں چینل پر لگا دونگا جسکا لنک بعد میں اس پوسٹ کے نیچے دے دونگا۔ اس عملمیں اپنی حاجات الگ سے نہ مانگیے گا کیونکہ دین و دنیا کی حاجات اس دعا میں آ گئی ہیں سو الگ سے مانگنےکی ضرورت نہیں۔
اگر کوئی شمع جلانا چاہے تو تصویر والی شمع جلا لے اور وہی اعداد بائیں بازو پر بھی لکھ لے۔
اس عمل کی تعریف پوری طرح کرنا ممکن نہیں۔ کچھ لوگ سوا سوا لاکھ درود پڑھنا شروع کر دیتے ہیں اوراٹھتے بیٹھتے، بے دھیانی، ڈرامہ دیکھتے ہوئے، سارے دنیاوی کام کرتے ہوئے ساتھ ساتھ درود کا ورد بھی رکھےہوتے ہیں۔ گو کہ کھلا ورد کرنا منع نہیں لیکن عمل میں کچھ دھیان بھی ضروری ہوتا ہے۔ ہر جمعہ کو رات کاایک گھنٹہ اس عمل کو دے دیجیے اور بے فکر ہو جائیے کہ عمل کا حق آپ نے ادا کر دیا۔ جو لوگ زیادہ درود پڑھتےہوں اور انکو کوئی چھوٹا درود چاہیے ہو تو وہ بھی پوانٹ نمبر تین والا درود یاد کر لیں اور جب بھی درود کیتسبیح علاوہ عمل پڑھنے کا ارادہ کریں تو ایک تسبیح کی گنتی ایک سو چھ ہونی چاہیے۔ ایک سو چھ کا عدداپنے اندر کمال تاثیرات رکھتا ہے۔ سوا لاکھ اگر کسی نے پڑھنا ہی ہو تو باقاعدہ وقت و جگہ متعین کر کے پڑھیںتاکہ مکمل تاثیر ظاہر ہو۔ گو کہ سوا لاکھ کا ہندسہ ہر زبان زد عام تو ہے لیکن اس سے بہت زیادہ پر تاثیر اعدادبھی ہیں اور ہر بندے کا اپنا ایک الگ عدد بھی ہوتا ہے۔
جن لوگوں کو زیارت رسول ہو جائے وہ بیشک کمنٹس میں بتا دیں۔ جنکو نہ ہو وہ اطمینان رکھیں کہ باقی سبفوائد انکو لازما نصیب ہونگے۔ کچھ لوگوں کے روحانی درجات اتنے بلند نہیں ہوتے اور نہ ہی انکے کشف اُسطریقے سے کھلے ہوتے ہیں کہ محمد کریم یا مخلوقات روحانی کو دیکھ سکیں۔ اگر احادیث کا غور سے مطالعہکریں تو تمام صحابہ کرام رضی الله بھی ملائکہ کو دیکھنے پر قادر نہ تھے بلکہ چند نے ہی مشاہدات کیے۔ لیکنمشاہدہ نہ ہونے کا مقصد یہ قطعا نہیں کہ آپکا عمل غیر مقبول ہے۔
صدق الله العلی العظیم
والله اعلی و اعلم۔


Syed Badshah. Assalamoalikum
Hamasha ki tarah boht khoobsurat Amal aur boht khoobsurat tehreer aapnay likhi … bus jahan miraasi ka ziker aapnay kia wahan tehreer ki spirit kamzor hori thi … Request hay k itni pyari tehreeron main us Miraasi ka ziker kar k moun ka zaiqa na kharab kia karain aur naraz bhi nahi hona …
Duaoon ka talabgar
Muhammad Shahid Mashhood.